کراچی: سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے سیلابی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت سب سے زیادہ خطرناک صورتحال پنجند اور تریموں کے مقامات پر ہے جہاں پانی کی آمد و اخراج پانچ لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکی ہے، تاہم گڈو، سکھر اور کوٹری بیراجوں پر صورتحال قابو میں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجند پر پانی کی آمد و اخراج 5 لاکھ 4 ہزار 604 کیوسک جبکہ تریموں پر یہ سطح 5 لاکھ 43 ہزار 579 کیوسک ریکارڈ کی گئی۔ گڈو بیراج پر آمد 4 لاکھ ایک ہزار 352 اور اخراج 3 لاکھ 80 ہزار 896 کیوسک رہا۔ سکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 40 ہزار 766 اور اخراج 3 لاکھ 11 ہزار 666 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار 116 اور اخراج 2 لاکھ 31 ہزار 763 کیوسک ہے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانی کی سطح پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 سندھ نے حالیہ سیلابی صورتحال میں ہزاروں خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔ان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 5 ہزار 830 افراد اور 10 ہزار 202 مویشیوں کو منتقل کیا گیا جبکہ مجموعی طور پر اب تک ایک لاکھ 33 ہزار 887 افراد اور 3 لاکھ 80 ہزار 363 مویشی محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔
سینیئر وزیر نے کہا کہ ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ علاقوں سے نہ صرف انسانی جانوں بلکہ مویشیوں، گھریلو سامان اور خوراک کو بھی بچایا۔ یہ آپریشن صرف ایک سرکاری عمل نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت ہے، سندھ حکومت مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ریسکیو 1122 کی رپورٹ کے مطابق 31 اگست سے 7 ستمبر تک جاری آپریشنز کے دوران 380 افراد کو مختلف اضلاع سے نکالا گیا۔ سکھر میں سب سے زیادہ سرگرمیاں ہوئیں جہاں 69 افراد کو مختلف دیہات سے منتقل کیا گیا۔ شہید بینظیر آباد میں 147 افراد، 30 مویشی اور خوراک و سولر پلیٹس بھی بچائی گئیں۔ نوشہرو فیروز میں 147 افراد کو ریسکیو کیا گیا جبکہ خیرپور میرس کے گاؤں گل حسن سے بھی 5 افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔