وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں ایک اہم ترقیاتی پروجیکٹ کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے، جس میں ورلڈ بینک کے تعاون سے ایک بڑے سڑک منصوبے کی تعمیر جاری ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر اس پروجیکٹ کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں سڑک پر موجود بڑے بڑے گڑھوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔خواجہ آصف نے اس ویڈیو کے ساتھ بتایا کہ یہ منصوبہ پنجاب انٹرمیڈیٹ سیٹیز امپروومنٹ انویسٹمنٹ پروگرام (PICIIP) کا حصہ ہے، جس کے تحت سینکڑوں ڈالر کے قرض سے سیالکوٹ اور ساہیوال شہروں میں کئی سال سے ترقیاتی کام جاری ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کے معیار کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ ویڈیو سے کام کی کیفیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔انہوں نے خاص طور پر سیالکوٹ میں خادم علی روڈ کا ذکر کیا، جہاں پی آئی سی آئی آئی پی کے ٹھیکیدار نے زیرِ زمین پائپ لائنیں بچھائی ہیں۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود شہر کے باہر ایک ڈسپوزل بھی بنایا گیا ہے، مگر سسٹم ابھی فعال نہیں ہے، جس سے منصوبے کے مکمل ہونے میں تاخیر کا اندازہ ہوتا ہے۔
خواجہ آصف نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ٹھیکیدار طاقتور اور اثرورسوخ رکھتا ہے، یہاں تک کہ وہ پارلیمنٹ کے رکن بھی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس طاقتور شخصیت کے پاس دولت کی کوئی حد نہیں، اور شاید ہی کوئی احتساب ہوتا ہے۔ اپنے حلقہ سے وابستہ ہونے کے ناطے، انہوں نے اس مسئلے پر آواز بلند کرنے کو اپنی ذمہ داری قرار دیا۔یہ تفصیلات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار اور احتساب کے مسائل موجود ہیں، اور سیاسی اثرورسوخ کے سبب کام کی نگرانی اور معیار بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔