راولپنڈی میں ممکنہ حادثات کا خدشہ، 86 خستہ حال عمارتیں خالی کرنے کی ہدایت

راولپنڈی میں ممکنہ حادثات کا خدشہ، 86 خستہ حال عمارتیں خالی کرنے کی ہدایت

راولپنڈی سے موصولہ تفصیلات کے مطابق میونسپل کارپوریشن راولپنڈی نے شہر بھر میں موجود 86 بوسیدہ اور خستہ حال عمارتوں کو خطرناک قرار دے کر فوری طور پر خالی کروانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

 ان احکامات کا مقصد عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب شہر میں موسلادھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور پرانی عمارتیں کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ ہے۔

تفصیلات:
نوٹسز کا اجرا:
خستہ حال عمارتوں کے مالکان کو باضابطہ انخلاء کے نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔ یہ نوٹسز پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 کے تحت جاری کیے گئے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ خطرناک عمارتیں عوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔
مالکان کے لیے ہدایات:
مالکان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 15 دن کے اندر اندر:یا تو اپنی عمارتوں کی مناسب مرمت کروائیں،یا مخدوش حصے گروا دیں۔
بصورت دیگر، عمارت کے مکینوں اور مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، جس میں ممکنہ طور پر زبردستی انخلاء اور دیگر انتظامی اقدامات شامل ہوں گے۔
متاثرہ علاقے:
خستہ حال عمارتیں راولپنڈی کے درج ذیل پرانے اور گنجان آباد علاقوں میں واقع ہیں:

بھابڑا بازار
لنڈا بازار
سید پوری گیٹ
راجا بازار
موچی بازار
ڈنگی کھوئی
اور دیگر پرانے شہر کے علاقے
پس منظر:
یہ قدم حالیہ کراچی اور لاہور میں پیش آئے عمارتوں کے گرنے کے واقعات کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے تاکہ راولپنڈی میں کسی بھی ممکنہ سانحے سے بچا جا سکے۔ بارشوں کے دوران پرانی اور مخدوش عمارتیں زمین بوس ہو کر قیمتی جانوں کا ضیاع کر سکتی ہیں۔

آئندہ اقدامات:
میونسپل کارپوریشن کے مطابق:ان عمارتوں کا سروے مکمل کر لیا گیا ہے۔نگرانی کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو 15 دن بعد دوبارہ معائنہ کریں گی۔شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایسے مقامات سے دور رہیں اور کسی بھی غیر محفوظ عمارت کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں۔