دریائوں کے کنارے آباد بستیاں زیر آب اور فصلیں بربادہوگئیں لاکھوں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ،پنجاب میں مزید 23 جاں بحق
جھنگ ،چنیوٹ کو بچانے کیلئے ریلوے برج بند اورقصور کیلئے آر آر اے ون بند میں شگاف ،ملتان کومحفوظ بنانے کیلئے ہیڈ محمد والا پرکٹ لگا نے کا فیصلہ
سندھ میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ، کچے کیدیہات زیرآب،بھارت نے جہلم میں پانی چھوڑ دیا، فوج کا ریسکیو آپریشن جاری،بارشوں سے صورتحال بگڑنے کا خدشہ
لاہور(کرائم رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب کے تینوں بپھرے دریائوں راوی، چناب اور ستلج کی پنجاب بھر میں تباہ کاریاں جاری ہیں ،دریائوں کے کنارے آباد بستیاں زیر آب اور فصلیں بربادہوگئیں لاکھوں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے۔ جھنگ ،چنیوٹ،قصور سمیت شہروں کو بچانے کیلئے بندوں میں شگاف ڈالے جا رہے ہیں جبکہ گھروں سے دربدر ہونے والے سیلاب سے متاثرین شدید مشکلات کا شکار ہیں اور عارضی کیمپوں میں خوراک کی فراہمی کے منتظر ہیں ،متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض بھی تیزی سے پھیلنے لگے۔ادھر این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے لاہور،گوجرانوالہ اور گجرات ڈویڑن کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اگلے 12تا18گھنٹوں میں شدید بارشوں کا امکان ہے جس سے سیلابی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے کیونکہ دریائے ستلج، راوی اور چناب میں غیر معمولی بلند پانی کا بہائو برقرار ہے۔دوسری طرف بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے اور اب اس نے مقبوضہ کشمیر سے دریائے جہلم میں بھی پانی چھوڑدیا جبکہ دریائے سندھ کی سطح میں بھی اضافہ ہو رہا ہیجس سے کچے کے متعدد دیہات زیرآب آگئے ہیں۔غیر ملکی خبر ایجنسی اے پی کے مطابق پاکستان کے مشرقی صوبہ پنجاب میں سیلاب کے باعث لاکھوں افراد محصور اور بے یارو مددگار ہیں جہاں حکومت اور ریسکیو ادارے متاثرین کو خوراک اور طبی سہولیات فراہم کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔سیلاب کی یہ لہر پیر کے روز اس وقت شروع ہوئی جب غیرمعمولی بارشوں کے بعد بھارت کے ڈیموں سے دریائے ستلج، چناب اور راوی میں اچانک پانی چھوڑا گیا۔ حکام کے مطابق یہ چار دہائیوں میں پہلا اتنا بڑا سیلاب ہے جس نے پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لیا۔پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا کے مطابق اب تک تقریباً 3 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ ایک ملین سے زائد متاثر ہیں۔ صرف اس ہفتے پنجاب میں 20 ہلاکتیں ہوئیں جس سے جون کے اواخر سے اب تک ملک بھر میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 820 تک پہنچ گئی ہے۔لاہور کے نواحی دیہات زیرآب آ گئے ہیں جس سے شہر میں بھی خطرات بڑھ گئے ہیں۔ جمعہ کو حکام اور فوج نے دریائے چناب کے پشتوں میں متعدد مقامات پر کنٹرول بریک لگا کر دبائو کم کرنے کی کوشش کی تاکہ بڑے شہروں کو بچایا جا سکے۔متاثرین کا کہنا ہے حکومتی امداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ نارووال کے ایک کسان محمد سلیم نے بتایاہم بڑی مصیبت میں ہیں۔ نہ حکومت آئی ہے نہ کوئی اور ہماری خبر لینے۔ نارووال یونیورسٹی کے لیکچرر رانا حنان نے کہا ان کے علاقے میں 100 سے زائد گھر تباہ ہوئے اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت جان بچانے پر مجبور ہوئے۔کئی دیہات مکمل طور پر پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ چھتوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں جبکہ محفوظ جگہوں پر پہنچنے والے بھوک، جلدی امراض اور دست جیسے مسائل کا شکار ہیں۔متاثرہ کسانوں نے بتایا چارہ ختم ہونے سے مویشی بیمار ہو رہے ہیں جبکہ اجناس کے ذخائر بھی تباہ ہو گئے ہیں۔ نرگس بی بی نے روتے ہوئے کہاسیلاب نے سب کچھ برباد کر دیا ہے، بس ہماری جانیں باقی ہیں۔ادھر سندھ میں بھی ممکنہ نئے سیلاب کی اطلاعات نے خوف کی لہر دوڑا دی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کی شدت کا الرٹ جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیاہے راوی میں سیلابی صورتحال کے باعث لاہور سٹی اور رائیونڈ متاثر ہو سکتے ہیں، 30 اگست تا 3 ستمبر راوی کے بالائی ملحقہ علاقوں میں بارشوں کا امکان ہے ، بھارت کے تھین ڈیم سے بھی پانی کا اخراج متوقع ہے جبکہ سیلابی ریلوں کی آمد کے باعث دریائے راوی کے بہا ئومیں نمایاں اضافے کا امکان موجود ہے۔دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر اس وقت 1لاکھ62 ہزار کیوسک کا بہا ئوموجود ، 2سے 3 ستمبر کے دوران یہ سیلابی ریلا سدھنائی پہنچے گا جہاں 1لاکھ 50 ہزار کیوسک تک بہا ئومتوقع ہے ، سدھنائی کے مقام پر یہ سیلابی ریلا شدید سیلابی صورتحال پیدا کر سکتا ہے، راوی میں سیلابی صورتحال کے باعث قصور،پتوکی،اوکاڑہ،رینالا خورد، دیپالپور، گوگیرہ، تاندلیانوالہ، کمالیہ، پیرمحل، اڈا حکیم بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔این ڈی ایم اے نے مون سون بارشوں و سیلاب سے نقصانات کی تفصیل بھی جاری کر دی ہے جس کے مطابق گزشتہ چو بیس گھنٹوں کے دوران مزید 23 افراد جان کی بازی ہار گئے ،جاں بحق افراد میں سے 22 کا تعلق پنجاب، ایک کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔دریائے راوی میں تاریخ کی سب سے بلند ترین پانی کی سطح ریکارڈ کی گئی۔ شاہدرہ میں دو لاکھ 20ہزار کیوسک پانی کا نکاس ہوا۔ سیلاب متاثرہ علاقوں سے 24 گھنٹوں کے دوران 20ہزار سے زائد افرادکا محفوظ انخلا مکمل کیا گیا۔لاہور میں تھیم پارک، موہلنوال، مرید وال،فرخ آباد، شفیق آباد، افغان کالونی،نیو میٹرو سٹی اورچوہنگ ایریا سے سینکڑوں افراد کا محفوظ انخلا کیا گیا۔ طلعت پارک بابوصابو میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔لاچیوالی سکول کے ریلیف کیمپ میں 70 سے زائد افراد مقیم ہیں۔ نجی ہائو¶سنگ سوسائٹی کے چار بلاکس میں پانی داخل ہونے پر تمام رہائشیوں کو بروقت نکال لیا گیا۔ بیشتر متاثرین چوہنگ ٹھوکرریلیف کیمپ میں مقیم ہیں جہاں ا ن کو قیام و طعام کی بہترین سہولتیں دی جارہی ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر انتظامیہ نے بروقت بندباندھ کر تحصیل فیروزوالہ اور شیخوپورہ میں سینکڑوں جانیں بچالیں۔ درجن بھر گائوں اور سینکڑوں مویشی، زرعی زمینیں اور لوگوں کا رورزگار بچا لیا گیا۔ اعوان پار، سنت پورہ اور دیگر ملحقہ آبادیاں حکومت کی جانب سے بنائے گئے بند کی وجہ سے سیلابی ریلے محفوظ رہیں۔ادھربھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور بارشوں کے باعث دریائے چناب، ستلج اور راوی بدستور سیلاب کی لپیٹ میں ہیں اور پانی کے بہائو میں اضافہ ہو رہا ہے۔دریائوں کے آس پاس آباد دیہات، شہر اور گلی محلے دریا کا منظر پیش کرنے لگے، لوگوں کے آشیانے اجڑ گئے اور راستے برباد ہوگئے۔کہیں ڈوبے مکانوں کی چھتوں پر لوگ پناہ لینے پر مجبور ہیں تو کہیں سیلابی ریلوں میں پھنسے شہری محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔وزیر آباد، قصور، نارووال، حافظ آباد،کمالیہ ،منڈی بہائوالدین،بہاول نگر، سیالکوٹ، سرگودھا، وہاڑی اور پاکپتن سمیت کئی علاقوں میں دیہات سیلاب کے گھیرے میں آگئے اور زمینی رابطہ کٹ گیا جبکہ کئی مقامات پر عارضی بند ٹوٹ گئے۔چناب میں پانی کا بڑا ریلا جھنگ داخل ہو گیا، پانی جھنگ چنیوٹ روڈ پر آگیا جس سے سڑک ڈوب گئی، چنیوٹ کے نواحی دیہات سے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے۔ جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کے لیے ریوازریلوے برج کے قریب دھماکا کرکے شگاف ڈال دیا گیا ، شگاف کے لیے بارودی مواد بچھایاگیا، شگاف سے پانی قریبی دیہات میں پھیلے گا اور تریموں ہیڈ ورکس پر دبائوکم ہوسکے گا، شگاف ڈالنے سے 5 کلو میٹر کا ریلوے ٹریک بھی متاثر ہو گا۔قصور کو بچانے کیلئے آر آر اے ون بند میں شگاف ڈالا گیا ہے۔ دوسری جانب ملتان میں دریائے چناب کا خطرناک ریلا 24 سے 48 گھنٹوں میں شہر کی حدود میں داخل ہو سکتا ہے، شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا پر بریچ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو حکام، مقامی رضا کاروں، پاک فوج اور پاکستان رینجرز کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔علاوہ ازیں حکام کے مطابق رواں ہفتے کے دوران 14 لاکھ 60 سے زیادہ لوگ گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں، پنجاب میں حالیہ سیلاب نے سینکڑوں دیہات میں تباہی مچائی، جس کی وجہ سے اناج کی اہم فصلیں بھی زیر آب آ گئی ہیں۔پنجاب کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا مون سون کی طوفانی بارشوں اور پڑوسی ملک کی جانب سے اپنے ڈیموں سے زیادہ پانی چھوڑنے سے صوبے میں بہنے والے تین دریائوں میں پانی کا بہائو زیادہ ہوا، بعض جگہوں پر دریا کے کناروں کو توڑنا بھی پڑا جس کی وجہ سے 1692 سے زیادہ دیہات میں سیلابی پانی داخل ہوا۔ہائی رسک علاقوں میں لاہور کے علاقے شاہدرہ، کوٹ محبو، جیا موسیٰ، عزیز کالونی، قیصر ٹائون، فیصل پارک، دھیر، کوٹ بیگم شامل ہیں۔ضلع شیخوپورہ میں فیض پور، دھمیکے، ڈاکہ، برج عطاری، کوٹ عبدالمالک میں سیلاب کا خطرہ ہے۔ضلع قصور کے علاقے پھول نگر، رکھ خان کے، نتی خالص، لمبے جاگیر، کوٹ سردار، ہنجرائے کلاں، بھتروال کلاں، نوشہرہ گئے کو ہائی رسک قرار دیا گیا ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان کاٹھیا کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے ہر فرد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے دئیے جائیں گے، اب تک 3 لاکھ سے زائد مویشیوں کو محفوظ کیا ہے۔دریائے راوی نے نارنگ منڈی میں بھی تباہی مچا دی، ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہو گئی، مواصلات کا نظام درہم برہم ہونے کے باعث کئی دیہات اور ڈیرہ جات کا زمینی راستہ منقطع ہو گیا۔اس کے علاوہ نارووال کے کئی دیہات زیر آب آ گئے،قلعہ احمد آباد میں ریلوے ٹریک سیلاب کی زد میں آگیا جس کی وجہ سے ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہوگئی۔دوسری جانب ملتان میں دریائے چناب کا خطرناک ریلا 24 سے 48 گھنٹوں میں شہر کی حدود میں داخل ہو سکتا ہے، شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا پر کٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔کمالیہ میں دریائے راوی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے اور انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ علاقے کی طرف بڑھ رہا ہے، سیلابی پانی نے قریبی رہائشی آبادیوں میں داخل ہونا شروع کر دیا ہے، 26 دیہات میں ہنگامی صورتحال نافذ کرتے ہوئے انخلاء کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔چنیوٹ کی تحصیل لالیاں میں موضع کلری کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے سو سے زائد دیہات پانی کی لپیٹ میں آنے کے بعد ہزاروں لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی۔ساہیوال میں اورنگ آباد کے بند میں شگاف پڑنا شروع ہو گیا ہے ، بند سے ملحقہ آبادیاں پانی کی لپیٹ میں آ گئی ہیں ،انتظامیہ نے مکینوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت کر دی ہے۔این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق پانی کی سطح 1,751 فٹ تک پہنچنے پر جمعہ کی صبح 6 بجے راول ڈیم کے سپل وے گیٹ کھول دئیے گئے۔کورنگ نالہ میں پانی کے بہائو کو قابو کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ننکانہ صاحب، شیخوپورہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے دریائی بیلٹ کے علاقوں کو فوری خالی کروانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ہیڈ قادرآباد پر پانی کا بہائو بڑھنے سے حافظ آباد کی 75 بستیاں ڈوب گئیں۔ جھنگ کے ٹریموں ہیڈورکس پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے اور ڈپٹی کمشنر کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو خوراک اور چارے کی فراہمی جاری ہے۔پاکپتن میں بے گھر افراد دریا کے پشتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں، متاثرین کے مطابق انہیں خوراک اور پینے کے پانی کی شدید قلت ہے۔بہاولپور میں دریائے ستلج کے زمندارہ بند میں شگاف پڑنے سے دیہات اور ہزاروں ایکڑ اراضی ڈوب گئی ہے، ریسکیو حکام نے یوسف والا اور احمد والا بند کو شدید متاثرہ قرار دیا ہے۔ریلوے حکام نے نارووال اور سیالکوٹ جانے والی ٹرینوں کو بند کر دیا۔مسافروں کیلئے نارووال اور سیالکوٹ ریلوے سٹیشن بھی مکمل طور پر بندکردیا گیا ہے۔ لاہور سے راولپنڈی جانیوالی ٹرین 103،104 کی روانگی منسوخ کردی گئی ۔سیالکوٹ پسرور، نارووال ریلوے ٹریک کی مرمت کے بعد ٹرینوں کی بحال کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ادھر بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے اور اب مقبوضہ کشمیر سے دریائے جہلم میں بھی پانی چھوڑدیا گیا۔آزاد کشمیر کے سٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے)کے مطابق بھارتی مقبوضہ علاقے سے آزاد کشمیر میں دریائے جہلم میں پانی چھوڑا گیا۔ بھارت کی طرف سے چھوڑا گیا ریلا کنٹرول لائن چکوٹھی کے مقام سے آزاد کشمیر میں داخل ہوگیا۔ مظفرآباد میں دریائے جہلم میں پانی کا بہائو بڑھ گیا ،چکوٹھی کے مقام سے پانی کی مقدار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث مظفر آباد، ہٹیاں بالا اور نیچے کی طرف منگلا تک کے علاقوں میں پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے۔پاک فوج کاسیالکوٹ،نارووال،گوجرانوالہ اور ہیڈ خانکی میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔پاک فوج کے جوان متاثرین کوہیلی کاپٹر،کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پرمنتقل کر رہے ہیں،جوانوں نے گوجرانوالہ اورہیڈخانکی میں بھی متاثرین سیلاب کو محفوظ مقامات پرمنتقل کیا،سیالکوٹ اور نارووال میں بھی سیلاب میں گھرے افراد کی محفوظ مقامات پرمنتقلی جاری ہے۔پاک فوج نے سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ریسکیواینڈریلیف کیمپس بھی قائم کیے ہیں۔