مدثر مسعود چودھری
2025 پاکستان کے لیے ایک اور کڑا امتحان ثابت ہوا، رواں برس غیر معمولی بارشوں اور بھارت کی جانب سے دریاؤں میں اچانک پانی چھوڑنے کے اقدامات نے ملک کو ایک ایسی سیلابی آفت میں دھکیل دیا جس نے لاکھوں خاندانوں کو اجاڑ دیا، ہزاروں بستیاں ملیامیٹ ہو گئیں اور قومی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، یہ سیلاب محض بارشوں اور ریلوں کا نتیجہ نہیں بلکہ عالمی موسمیاتی تبدیلیوں اور خطے کی سیاسی بے حسی کا شاخسانہ تھا، پاکستان جو دنیا میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نہ ہونے کے برابر حصہ ڈالتا ہے ان تباہ کاریوں کا سب سے بڑا شکار بن رہا ہے، بارشوں کی شدت اور گلیشیئرز کے تیز پگھلاؤ نے شمالی پاکستان کو سب سے پہلے اپنی لپیٹ میں لیا، خیبرپختونخوا کے اضلاع سوات، دیر، شانگلہ اور بونیر میں برفانی جھیلوں کے اچانک پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں سینکڑوں مکانات اور پل تباہ ہو گئے، ہزاروں لوگ محصور ہو گئے اور صرف ایک ماہ کے دوران سات سو سے زائد جانیں ضائع ہوئیں جبکہ ہزاروں زخمی اور معذور ہوئے، یہ المیہ محض مقامی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کی واضح مثال ہے، سائنس دانوں کے مطابق درجہ حرارت میں معمولی اضافے کے ساتھ بارشوں کی شدت کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور یہی حقیقت پاکستان میں ہر سال کھل کر سامنے آ رہی ہے، پنجاب کے میدانی علاقے بھی اس سال شدید متاثر ہوئے، دریائے ستلج اور چناب کی طغیانی نے قصور، اوکاڑہ، ساہیوال، بہاولنگر اور وہاڑی جیسے اضلاع کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، کھڑی فصلیں جن میں کپاس، گندم اور چاول شامل تھیں مکمل طور پر برباد ہو گئیں، لاکھوں مویشی پانی میں بہہ گئے، زرعی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہوا اور دیہی زندگی کا ڈھانچہ ڈھیر ہو گیا، پانی نے نہ صرف زمینوں کو اجاڑا بلکہ زیر زمین ذخائر کو بھی آلودہ کر دیا جس کے باعث پینے کے پانی کا سنگین بحران پیدا ہو گیا، ایسے حالات میں جب کسانوں کی محنت ضائع ہو گئی اور ان کے معاشی ذرائع ختم ہو گئے تو دیہاتوں سے شہروں کی طرف بڑے پیمانے پر ہجرت شروع ہو گئی جس نے شہری مسائل کو مزید بڑھا دیا، ان حالات کو مزید سنگین بنانے میں بھارت کے اقدامات نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا، تھیِن اور مادھوپور ڈیموں کے گیٹ اچانک کھول دیے گئے جس کے نتیجے میں پاکستانی پنجاب کے سرحدی اضلاع میں راتوں رات پانی کا سیلاب امڈ آیا، ایک لاکھ ستر ہزار افراد کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونا پڑا، ہزاروں مکانات زمین بوس ہو گئے اور کئی دیہات مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئے، عوامی حلقوں میں یہ تاثر عام ہوا کہ بھارت نے سیاسی برتری جتانے کے لیے انسانی زندگیاں داؤ پر لگا دیں، اس اقدام نے نہ صرف انسانی المیہ کو بڑھایا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کے معاہدوں پر بھی سنگین سوالات اٹھائے اور ایک بار پھر یہ احساس اجاگر ہوا کہ پاکستان کو اپنی آبی سلامتی کے لیے ایک مضبوط اور مربوط پالیسی اپنانا ہوگی، سیلاب نے پاکستان کے قومی ڈھانچے کو بھی سخت نقصان پہنچایا، بالخصوص ریلوے کا نظام شدید متاثر ہوا، کئی بڑے ٹریک بہہ گئے، ریلوے پل کمزور یا منہدم ہو گئے، متعدد اسٹیشن پانی میں ڈوب گئے اور مال بردار ٹرینوں کی آمدورفت مکمل طور پر بند ہو گئی جس کے نتیجے میں تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئیں اور مسافروں کو ناقابل بیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ماہرین کے مطابق ریلوے کو اس سال درجنوں ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا جو پہلے سے خسارے میں چلنے والے اس ادارے کے لیے ایک کاری ضرب ہے، سڑکوں، پلوں اور بجلی کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا، کئی مقامات پر بجلی کے کھمبے اور لائنیں بہہ گئیں، مواصلات کا نظام درہم برہم ہو گیا اور پورے ملک میں زندگی کا پہیہ رک سا گیا، یہ تباہی صرف معاشی یا مالی نقصانات تک محدود نہیں رہی بلکہ سماجی اور نفسیاتی بحران بھی اپنے عروج پر پہنچ گیا، لاکھوں افراد عارضی کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے جہاں نہ مناسب خوراک ہے نہ علاج کی سہولت، بچے تعلیم سے محروم ہو گئے، خواتین غیر محفوظ حالات میں کرب سہنے پر مجبور ہیں اور بزرگ و معذور افراد بے بسی کا شکار ہیں، آلودہ پانی نے ہیضہ، ملیریا اور ڈینگی جیسی وباؤں کو جنم دیا، ڈاکٹروں کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ امراض آنے والے برسوں میں قومی سطح پر بڑے بحران میں بدل سکتے ہیں، اس تمام تر صورت حال نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، یہ اب محض کوئی سائنسی اصطلاح یا عالمی مباحثہ نہیں بلکہ ایک زندہ اور تلخ حقیقت ہے جو ہر سال ہماری زمین، ہماری معیشت اور ہماری زندگیاں نگل رہی ہے، بڑھتا ہوا درجہ حرارت، گلیشیئرز کا پگھلنا، بے ترتیب بارشیں اور غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ مل کر ایسے سیلابی مناظر کو جنم دے رہے ہیں جن سے ہر سال لاکھوں لوگ متاثر ہوتے ہیں، پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن نقصان سب سے زیادہ ہم ہی اٹھا رہے ہیں، یہ ایک ایسی عالمی ناانصافی ہے جس پر دنیا کے طاقتور ممالک کو غور کرنا ہوگا، پاکستان کے اندر بھی کوتاہیوں کی کمی نہیں، جنگلات کی بے دریغ کٹائی نے زمین کو کمزور کر دیا ہے، دریاؤں کے کنارے پر غیر قانونی تعمیرات نے پانی کے قدرتی راستے بند کر دیے ہیں، نکاسی آب کے نظام کی کمی نے شہروں کو بارش کے بعد ڈوبنے پر مجبور کر دیا ہے، کراچی، لاہور، فیصل آباد اور پشاور جیسے بڑے شہروں میں چند گھنٹوں کی بارش کے بعد سڑکیں دریا کا منظر پیش کرتی ہیں، یہ سب ہماری اپنی غفلت اور بدانتظامی کا نتیجہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان ہر دہائی میں کم از کم دو بڑے سیلابوں سے متاثر ہوا ہے، 2010 کے تباہ کن سیلاب نے دو کروڑ سے زائد افراد کو متاثر کیا تھا اور معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا تھا، اسی طرح 2022 کے سیلاب نے پاکستان کو تقریباً 30 ارب ڈالر کے نقصانات سے دوچار کیا اور آج 2025 کا یہ نیا بحران پھر ایک وارننگ ہے کہ ہم نے سبق نہیں سیکھا، اقوامِ متحدہ، ورلڈ بینک اور دیگر عالمی ادارے بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان دنیا کے اْن دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں مگر ہماری قومی پالیسی اب تک زبانی وعدوں اور کاغذی دعوؤں سے آگے نہیں بڑھ سکی، اداروں کی کمزوری، سیاسی قیادت کی بے حسی اور بدعنوانی نے اس بحران کو مزید بڑھایا ہے، قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے پاس وسائل کی کمی ہے، مقامی حکومتیں فعال نہیں، اور جب بھی آفت آتی ہے تو امداد میں تاخیر، متاثرین کی رجسٹریشن میں بدعنوانی اور بحالی کے منصوبوں میں کرپشن سامنے آتی ہے، یہ سب کچھ عوام کے اعتماد کو توڑتا ہے اور ریاست کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے، یہ وقت ہے کہ پاکستان اپنی داخلی کمزوریوں کو
ختم کرے، بحران کو سیاسی نعروں کے بجائے سائنسی حقیقت کے طور پر تسلیم کرے اور ایک مربوط حکمتِ عملی اپنائے، اس حکمتِ عملی میں نہ صرف ڈیموں اور بیراجوں کی تعمیر شامل ہونی چاہیے بلکہ جدید اربن پلاننگ، نکاسی آب کے نظام، گرین انفراسٹرکچر، بارش کے پانی کے ذخیرے اور بڑے پیمانے پر شجرکاری بھی لازم ہے، دنیا کے کئی ممالک نے یہ اقدامات کر کے اپنی سرزمین کو محفوظ بنایا ہے، مثال کے طور پر ہالینڈ نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے جدید ترین واٹر مینجمنٹ سسٹم اپنایا، بنگلہ دیش نے سیلابی حالات کے باوجود بہتر منصوبہ بندی سے نقصانات کو کم کیا، تو پھر پاکستان کیوں نہیں کر سکتا، ضرورت صرف سیاسی عزم اور ادارہ جاتی شفافیت کی ہے، بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کو اپنی آواز مزید بلند کرنا ہوگی، ترقی یافتہ ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے پاکستان جیسے متاثرہ ممالک کے لیے موسمیاتی فنڈز فراہم کریں تاکہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو اور متاثرین کی بحالی ممکن ہو سکے، اس وقت پاکستان کو اربوں ڈالرز کے فنڈز درکار ہیں تاکہ تباہ شدہ ریلوے، سڑکوں، پلوں، اسکولوں اور اسپتالوں کو دوبارہ کھڑا کیا جا سکے، اگر عالمی برادری نے پاکستان کی مدد نہ کی تو یہ تباہی نہ صرف ہمارے ملک بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے کیونکہ انسانی ہجرت، غربت اور بیروزگاری کے مسائل سرحدوں سے آگے جا سکتے ہیں، حالیہ سیلاب نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا ہے کہ اگر ہم نے فوری اقدامات نہ کیے تو آنے والے برسوں میں نقصانات کئی گنا بڑھ جائیں گے، موسمیاتی تبدیلی اب دروازے پر دستک نہیں دے رہی بلکہ ہمارے گھروں اور کھیتوں میں داخل ہو چکی ہے، بھارت کی جانب سے پانی کا اچانک اخراج ایک اور خطرے کی گھنٹی ہے جسے سنجیدگی سے لینا ہوگا، ریلوے سمیت قومی ڈھانچے کی بحالی فوری ضرورت ہے اور مستقبل کے لیے مضبوط منصوبہ بندی بھی ناگزیر ہے، بصورت دیگر ہر سال یہ المیہ ہماری معیشت اور معاشرت کو مزید کھوکھلا کرتا جائے گا اور ہم دنیا کی آنکھوں کے سامنے ایک ایسا ملک بن جائیں گے جو اپنے ہی لوگوں کو بچانے کی سکت نہیں رکھتا، یہی وقت ہے کہ ہم سنجیدگی سے سوچیں، اپنی پالیسیاں درست کریں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور پائیدار پاکستان تعمیر کریں۔