شاہی مراعات اور کارکردگی کا کڑا امتحان

یاور مہدی
موجودہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس  کو سمجھنے کے لیے اس کی تاریخی بنیاد کو جاننا ضروری ہے۔ برطانوی دور میں قائم کی گئی امپیریل/انڈین سول سروس (ICS) کا بنیادی مقصد عوامی خدمت سے زیادہ برطانوی اقتدار کو مضبوط بنانا، امن و امان برقرار رکھنا اور محصولات کی وصولی تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد اسی انتظامی ڈھانچے کو بڑی حد تک برقرار رکھا گیا۔ بعدازاں یہ سول سروس آف پاکستان ، پھر ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ  اور 2012ء￿  سے دوبارہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس  کہلانے لگی۔

اگرچہ نام بدلتے رہے، مگر اس سروس کی بنیادی ساخت، ‘‘جنرلسٹ’’ تصور اور اختیارات کی مرکزیت آج بھی بڑی حد تک نوآبادیاتی ورثے کی عکاس ہے۔ اسی لیے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا اکیسویں صدی کے پاکستان کو اب بھی برطانوی دور کے انتظامی ماڈل کی ضرورت ہے، یا پھر ایک ایسا نظام درکار ہے جو آئین، وفاقی تقاضوں، جدید طرزِ حکمرانی اور حقیقی عوامی خدمت سے ہم آہنگ ہو؟

پاکستان کی بیوروکریسی کو ریاست کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا ہے۔ آئین اور قانون کی روح کے مطابق اس کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت، ریاستی امور کی غیر جانبدارانہ انجام دہی اور اچھی حکمرانی کو یقینی بنانا ہے۔ مگر بدقسمتی سے گزشتہ چند دہائیوں میں یہ تصور بتدریج تبدیل ہوتا گیا۔ آج وفاقی سول سروس، بالخصوص پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس ، عوامی خدمت سے زیادہ اختیارات، مراعات، اثرورسوخ اور طاقت کی علامت بنتی جا رہی ہے۔ اگر اس سروس کی اصل کشش صرف قومی خدمت ہوتی تو شاید پاکستان آج سیاسی، انتظامی، معاشی اور گورننس کے ان بحرانوں سے دوچار نہ ہوتا جن کا سامنا اسے مسلسل ہے۔

اسی بدلتی ہوئی سوچ نے ایک نئی ‘‘سی ایس ایس انڈسٹری’’ کو بھی جنم دیا ہے۔ ہر سال ہزاروں نوجوان اس امتحان میں صرف اس لیے شریک نہیں ہوتے کہ وہ عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ اس سروس کو ریاست کے طاقتور، بااثر اور مراعات یافتہ طبقے میں داخلے کا دروازہ سمجھا جانے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے شہروں میں سی ایس ایس کی تیاری کرانے والی اکیڈمیوں کے درمیان شدید کاروباری مسابقت جنم لے چکی ہے۔ کوچنگ، خصوصی وظائف، رہائش، مالی مراعات، کامیاب امیدواروں کے لیے پرکشش آفرز اور ان کی کامیابی کو اپنی تشہیر کے لیے استعمال کرنا اب معمول بنتا جا رہا ہے۔ اس رجحان نے ایک قومی امتحان کو بتدریج ایک منافع بخش کاروباری شعبے میں تبدیل کر دیا ہے۔
صرف نجی اکیڈمیاں ہی نہیں بلکہ بعض فلاحی ادارے، ٹرسٹس، تعلیمی نیٹ ورکس اور مختلف سرپرستی کے پروگرام بھی باصلاحیت نوجوانوں کی معاونت کرتے ہیں۔ اصولی طور پر یہ ایک مثبت روایت ہے، لیکن اگر اس معاونت کا مقصد صرف تعلیم اور میرٹ کے فروغ کے بجائے مستقبل میں اثرورسوخ، تعلقات یا انتظامی رسائی پیدا کرنا ہو تو یہ ریاستی غیر جانبداری کے لیے ایک سنجیدہ سوال بن جاتا ہے۔ اسی طرح معاشرے کے بااثر طبقات، بڑے کاروباری خاندان، اعلیٰ سرکاری افسران اور سیاست دان بھی اپنی نئی نسل کو انہی طاقتور سروسز میں دیکھنے کے خواہش مند ہوتے ہیں، کیونکہ یہ سروس محض ایک ملازمت نہیں بلکہ ریاستی طاقت کے ایوانوں تک رسائی کا ذریعہ سمجھی جانے لگی ہے۔

اگر کسی سروس کی سب سے بڑی کشش عوامی خدمت کے بجائے طاقت، پروٹوکول، اختیارات اور مراعات بن جائے تو پھر اصلاحات صرف سروس اسٹرکچر میں نہیں بلکہ ریاستی ترجیحات میں بھی درکار ہوتی ہیں۔ اسی سوچ کا عملی اظہار سب سے نمایاں انداز میں صوبہ پنجاب میں دکھائی دیتا ہے، جہاں وفاقی سول سروس کی مراعات، اختیارات اور انتظامی غلبے کے بارے میں طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔

یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پنجاب، بالخصوص لاہور، ملک کا سب سے بااثر انتظامی، سیاسی اور معاشی مرکز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے متعدد افسران اپنی تعیناتی کے لیے پنجاب کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر بعض سرکاری حلقوں میں پنجاب کو گریڈ 19 اور 20 کے وفاقی افسران کے لیے ‘‘ایڈمنسٹریٹو ڈزنی لینڈ’’ قرار دیا جاتا ہے تو یہ دراصل انہی غیر معمولی اختیارات، مراعات اور انتظامی امکانات کی طرف اشارہ سمجھا جاتا ہے۔

پنجاب میں تعینات اعلیٰ وفاقی افسران کو صرف بڑے انتظامی اختیارات ہی حاصل نہیں ہوتے بلکہ ان کے ساتھ ایسی مراعات بھی وابستہ ہوتی ہیں جو ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ پرکشش سمجھی جاتی ہیں۔ وسیع اختیارات، پالیسی سازی میں مرکزی کردار، اعلیٰ سرکاری رہائش گاہیں، آفیسرز کلب، دفاتر اور رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش پر سرکاری وسائل، کیمپ آفس کی سہولیات، سرکاری گاڑیاں، ڈرائیور، معاون عملہ، پروٹوکول، سیکیورٹی اور دیگر انتظامی سہولتیں اس سروس کی کشش میں اضافہ کرتی ہیں۔ ناقدین کا یہ بھی مؤقف ہے کہ بعض افسران تبادلوں کے بعد بھی اپنے پیشہ ورانہ روابط کی بدولت طویل عرصے تک انہی سہولتوں سے مستفید رہتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ نہ صرف وفاقی افسران بلکہ دیگر سروسز سے تعلق رکھنے والے بعض افسران بھی موقع ملنے پر اس انتظامی دھارے کا حصہ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ رجحان اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ ریاست کے مختلف اداروں میں اختیارات اور مراعات کا توازن یکساں نہیں۔

دوسری جانب پنجاب کی اپنی صوبائی مینجمنٹ سروس  کے افسران، جو صوبے کی انتظامی ضروریات، مقامی ثقافت اور زمینی حقائق سے زیادہ واقف ہوتے ہیں، اکثر اہم انتظامی مناصب، بروقت ترقی اور فیصلہ سازی میں مناسب نمائندگی نہ ملنے کی شکایت کرتے ہیں۔ 
ان کے مطابق یہ صورتِ حال وقت کے ساتھ ایک انتظامی چیلنج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

یہ بحث کسی ایک سروس کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ اس بنیادی سوال کی طرف توجہ دلانے کے لیے ہے کہ کیا ریاستی خدمت کا مقصد عوام کی فلاح ہے یا ایک مراعات یافتہ طبقے کی تشکیل؟ اگر واقعی پاکستان کو ایک مضبوط، غیر جانبدار، پیشہ ور اور عوام دوست بیوروکریسی درکار ہے تو پھر اختیارات، ترقی،
اگر واقعی پاکستان کو ایک مضبوط، پیشہ ور، غیر جانبدار اور عوام دوست بیوروکریسی درکار ہے تو اختیارات، ترقی، احتساب اور مراعات کا پورا نظام شفاف، متوازن، میرٹ پر مبنی اور آئین کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ ریاست کی طاقت کا اصل معیار مراعات یافتہ اشرافیہ کی تشکیل نہیں، بلکہ عوام کو بروقت، منصفانہ اور مؤثر خدمات کی فراہمی ہے۔ بصورتِ دیگر ‘‘قومی خدمت’’ کا مقدس تصور محض ایک خوشنما نعرہ بن کر رہ جائے گا، جبکہ ‘‘ایڈمنسٹریٹو ڈزنی لینڈ’’ جیسی اصطلاحیں ہمارے انتظامی نظام میں موجود عدم توازن، مراعاتی تفاوت اور اصلاحات کی ناگزیر ضرورت کی علامت کے طور پر زندہ رہیں گی۔