موسمیاتی تبدیلیاں،ترقی پذیر ممالک کیلئے فوری اقدامات ناگزیر

فوزیہ غنی
آج دنیابھرمیں انسان کی بنائی دوائیاں استعمال کیں اور اب پھر سے قدرتی جڑی بوٹیوں کا دور آچکا ہے ‘انسان نے خود کو قدرت سے دور کیا اور آہستہ آہستہ ایسی ٹیکنالوجی بنائی جس سے فائدہ تو ہوا ،نقصان بھی ہوا‘موسمیاتی تبدیلی اور سموگ میں اضافہ ایک سنگین عالمی اور قومی مسئلہ ہے۔گزشتہ چند برسوں میں دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی کے ساتھ ساتھ سموگ میں بھی خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر جنوبی ایشیا کے ممالک، جیسے پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں زیادہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ لاہور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ جیسے شہر ہر سال اکتوبر سے جنوری تک شدید سموگ کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔
درخت ،ہریالی ،جنگل ،پھلوں کے باغات تیزی سے ختم کی جارہی کے۔ جی ٹی روڈ پر گوجرانوالہ سے لاہور یا فیصل آباد یا پھر گجر خان سے اسلام آباد تک سفر کریں تو دونوں اطراف آپ کو ہائوسنگ سوسائٹیز اور فیکٹریاں دکھائی دیتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک شہر سے ہی آپ دوسرے شہر میں داخل ہو گئے ہیں۔جنوبی پنجاب کے اضلاع میں ٹائون پلاننگ کے فقدان کے باعث بھی زرعی زمینوں پر ہائوسنگ کالونیاں بنانے کے رجحان میں گزشتہ پانچ برسوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جنہیں کوئی روکنے والا نہیں۔" 
بین الاقوامی فہرست میں  لاہور بدستور آلودہ ترین شہروں میں شامل ہے۔ بھارت کے شہر کولکتہ کا انڈیکس 158، دہلی کا اس سے کچھ زیادہ، جبکہ ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی اور نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو بھی بلند سطح پر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

انسان صدیوں سے ترقی کی جستجو میں ہے۔ اس نے زمین کے سینے سے خزانے نکالے، ہوا کو مسخر کیا، اور پانی کو اپنے تابع بنایا۔ مگر اس سفرِ ترقی میں ایک لمحہ ایسا آیا جب انسان نے خود کو فطرت سے الگ کر لیا۔ وہ مٹی جس سے اس کا وجود جڑا تھا، اس کے لیے اجنبی بنتی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انسان نے ترقی تو حاصل کی، مگر سکونِ قلب کھو دیا۔ٹیکنالوجی کی ایجاد نے بلاشبہ انسانی زندگی کو سہولت بخشی، مگر اس کے ساتھ ایسے مسائل بھی جنم لیے جنہوں نے زمین کی سانس روک دی۔ صنعتوں کے دھوئیں نے فضا کو آلودہ کر دیا، درختوں کے بے دریغ کٹائو نے زمین کو بنجر بنا دیا، اور مصنوعی ایندھن نے فطرت کے توازن کو بگاڑ کر رکھ دیا۔ آج انسان کے شہر روشن ہیں، مگر اس کی فضا اندھیری ہو چکی ہے۔صحت، جو کبھی فطرت کے قریب رہنے سے مضبوط تھی، اب مصنوعی غذائوں اور آلودہ ماحول کی بھینٹ چڑھ چکی ہے۔ زمین، جو کبھی ماں کی طرح زرخیز تھی، اب تھکی ہوئی اور بوجھل دکھائی دیتی ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی ترقی کے سفر کو فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔ اگر انسان نے پھر سے مٹی سے رشتہ جوڑ لیا، درختوں کو اپنا ساتھی بنا لیا، اور زمین کو سانس لینے کا موقع دیا، تو شاید وہ دوبارہ حقیقی خوشی اور سکون پا سکے۔کیونکہ انسان کی اصل بقا ٹیکنالوجی میں نہیں، قدرت کے دامن میں ہے۔
سموگ کیا ہے؟ 
سموگ ،دھند کا مجموعہ ہے۔جب فضاء￿  میں دھوئیں، گردوغبار اور صنعتی فضلے کے ذرات نمی کے ساتھ مل کر زمین کے قریب جمع ہو جاتے ہیں تو یہ ایک بھورے یا زرد رنگ کی چادر کی صورت اختیار کر لیتے ہیں جسے سموگ کہا جاتا ہے۔موسمیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ، بارشوں کے نظام میں بگاڑ، اور ہوا کے دبائو میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ان تبدیلیوں سے ہوا کی رفتار کم ہو جاتی ہے، جس سے آلودہ ذرات فضا میں ٹھہر جاتے ہیں۔خشک موسم طویل ہو جاتا ہے، اور بارشیں دیر سے ہوتی ہیں جو فضائی آلودگی کو صاف نہیں کر پاتیں۔درجہ حرارت کا الٹائو  بڑھ جاتا ہے، جس سے آلودگی زمین کے قریب پھنس جاتی ہے۔
پاکستان میں سموگ کے اسباب پاکستان میں سموگ بڑھنے کی چند بڑی وجوہات درج ذیل ہیں۔

:1. زرعی علاقوں میں فصلوں کی باقیات کو جلانا۔
2. گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں، خاص طور پر پرانے انجن اور غیر معیاری ایندھن کے استعمال 
سے
۔3. صنعتی کارخانوں اور اینٹوں کے بھٹے جو بغیر فلٹر کے دھواں خارج کرتے ہیں
۔4. درختوں کی کٹائی جس سے فضا میں آلودگی جذب کرنے کی قدرتی صلاحیت کم ہو جاتی ہے
۔5. شہری منصوبہ بندی کی کمی اور بڑھتی ہوئی آبادی پراثرا ت سمو گ نہ صرف انسانی صحت بلکہ معیشت اور ماحول پر بھی سنگین اثرات ڈال رہی ہے:سانس، آنکھوں اور دل کے امراض میں اضافہ۔اسکولوں کی بندش اور ٹریفک حادثات میں اضافہ۔زراعت پر منفی اثر، کیونکہ سورج کی روشنی کم پہنچتی ہے۔معاشی نقصان، کیونکہ مزدور طبقہ اور ٹرانسپورٹ متاثر ہوتے ہیں۔
چرند ، پرند،انسان سب ہی اس موسمیاتی تبدیلی کے بدلنے سے سخت متاثر ،خاص طور پر حاملہ خواتین
ہمارے ملک میں عورتیں پہلے ہی شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جس کومدِنظر رکھتے ہوئے نجی اور سرکاری اداروں کی طرف سے فوڈ سپلیمنٹ غذائی قلت کی کمی کوپوراکرنے کے لیئے مائوں کو حمل کو دوران دئیے جاتے ہیں تاکہ انکو حمل کی پیچیدگیوں سے بچایا جا سکے مگریہ ناکافی ہیں۔ اْن تمام حقائق کو مدِنظر رکھتے ہوئے وسیع نظر ہوکر حاملہ خواتین کو موسمیاتی تبدیلیوں خصوصاً پاکستان کو وہ علاقے جہاں گرمی کی شدت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے ان مسائل کے سدِباب کیلئے موثرپالیسیاں بنانے اور ان پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ گرم ہوائیں، گرمی کی حدت انسانی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب کرتی ہیں۔ خصوصاً حاملہ خواتین اور انکے ہونے والے بچے کے لئے انتہائی خطرناک اور جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔ بہت سی تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ شدید گرمی حاملہ خواتین میں مختلف مسائل پیدا کرتی ہے جیسے کہ قبل از وقت بچے کی پیدائش، مردہ بچے کی پیدا ئش، اسقاطِ حمل، زچگی کے دوران مائوں کی اموات، بچہ دانی میں خون اور اکسیجن کی سپلائی متاثر ہونا۔
 حل اور اقداما ت 

سموگ کے خلاف موثر اقدامات درج ذیل ہو سکتے ہیں:فصلوں کی باقیات جلانے کے بجائے متبادل طریقے اپنانا۔الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا۔صنعتی فضلے پر کنٹرول اور فلٹر سسٹم لازمی بنانا۔درختوں کی شجرکاری کو بڑے پیمانے پر فروغ دینا۔عوامی آگاہی مہمات تاکہ لوگ سموگ کے نقصانات اور بچائوکے طریقوں سے باخبر رہیں۔-
موسمیاتی تبدیلی اور سموگ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں یہ صورتحال انسانی صحت، معیشت اور ماحولیات کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔ اس کے لیے حکومت، صنعت، اور عوام تینوں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ صاف اور صحت مند فضا کو بحال کیا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔