محمد ریاض
بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح کسی بھی ملک کے لئے خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے جب نوجوان نسل کو مناسب مواقع نہیں ملتے تو وہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے جرائم میں اضافہ اور معاشرتی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے بدقسمتی سے ہمارے ہاں میرٹ کے بجائے سفارش اور رشوت کو ترجیح دی جاتی ہے جس کی وجہ سے قابل اور محنتی افراد پیچھے رہ جاتے ہیں پاکستان اس وقت ایک شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے ہمسایہ ممالک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات پاکستانی عوام پر مرتب ہو رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی بے روزگاری مہنگائی کاطوفان اور روزمرہ کے بلوں میں نئے نئے فکس چارجزنے عام آدمی کی زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے ۔ وہ عوام جو کبھی ایک باعزت زندگی گزار رہے تھے ان پر راتوں رات پٹرول اورڈیزل کا طوفان برپا کر کے ان کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے ۔عام انسان آج اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ہر گزرتے دن کے ساتھ بجلی ،گیس،اور دیگر یوٹیلٹی بلوں میں اضافہ ہو رہا ہے ان بلوں میں شامل فکس چارجز نے عوام پر ایک اضافی بوجھ ڈال دیا ہے ۔جس کا بوجھ اٹھانا اب عوام کے لئے ممکن نہیں ہے ۔ایک عام مزدور یا تنخواہ دار طبقہ اپنی محدود آمدن میں گھر کا خرچ،بچوں کی تعلیم اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے بعد ا ضافی اخراجات کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ بے روزگاری ہر روزاس مسلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے لاکھوں نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار سے محروم ہیں فیکٹریاں بند ہو رہی ہیںکاروبار سکڑرہے ہیں اور نئی ملازمتوں کے موقع نہ ملنے کی وجہ سے نوجوان نسل تباہ وبرباد ہور ہی ہے کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان نسل غلط کاموں میں ملوث ہو رہے ہیں ایسے حالات میں نوجوان نسل مایوسی کا شکار ہورہے ہیں اور بعض افراد ذہنی دبائو کی شدت میں انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو کہ ایک بہت بڑا المیہ ہے ۔خواتین تعلیم حاصل کرنے کے باوجود گھروں تک محدود ہیں ۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی بلکہ سماجی بحران کو بھی جنم دے رہی ہے گھروں میں پریشانی ذہنی دبائو اور بے چینی بڑھتی جا رہی ہے عوام کا جینا محال ہو چکا ہے اور مستقبل تاریک نظر آنے لگا ہے ۔عوام اس وقت مشکل امتحان سے گزر رہی ہے کیونکہ اداروں کی ناقص کارکردگی عوام کو رلیف دینے میں ناکام ہو چکی ہے مہنگائی پر کنڑول مشکل ہو گیا ہے آفسران بالا اے سی کمروں اور مہنگی گاڑیوں میں برجمان ہیں عوام در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہے اور دن بدن مہگائی اور بیروزگاری ان کا مقدر بن رہی ہے ۔ اگر ادارو ں کی کارکردگی اسی طرح رہی تو مزید مہنگائی اور بیروزگاری جنم لے گی ۔دوسری جانب حکومت کرپشن فری کے نعرے تو لگا رہی ہے مگر ابھی اس پر مکمل عمل نہیں کروا سکی ۔ ابھی تک تمام ادارے کرپشن فری نہیں ہوئے ابھی بھی بہت سے ایسے ادارے ہیں جو عوام الناس کو لوٹ رہے ہیں ان کے جائز کام بھی رشوت کی نظر ہو رہے ہیں۔تھانہ کلچر ابھی بھی رشوت کا گڑھ ہے عوام کہیں تو بیروزگاری کا ماتم کر رہی ہے تو کہیں اس کو رسوا کیا جا رہا ہے۔
ٓٓٓیہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں پاکستان کو جن بڑے چیلنجزکا سامنا ہے ان میں بے روزگاری اور کرپشن سر فہرست ہیں ایک طرف نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار سے محروم ہیں تو دوسری طرف سرکاری و نجی اداروں میں کرپشن کا ناسور جڑیں مضبوط کر رہا ہے بلکہ معاشرتی بے جینی اور مایوسی کوبھی بڑھا رہے ہیں۔اداروں میں پائی جانے والی کرپشن اس مسلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے جب نوکریاں پیسے یا تعلقات کی بنیاد پر دی جائیں تو نہ صرف اداروں کی کارکردگی متاثر ہوتی بلکہ عام شہری کا اعتماد بھی ختم ہو جاتا ہے کرپشن کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں وسائل کا ضیاع ہوتا ہے اور معیشت کمزور پڑجاتی ہے۔
ان مسائل کے حل کے لئے ضروری ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے سنجیدہ اقدامات کریں تاکہ عام آدمی کو اس کا حق مل سکے احتساب کے نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ ملوث عناصر کو سزا مل سکے ۔حکومت بنیادی ضروریات زندگی کو بہتر بنانے کے اقدامات تو کر رہی لیکن اس کے ثمرات ابھی تک عام آدمی نہیں پہنچ رہے اس کی یہی وجہ ہے کہ بنائی جانی والی کنٹرول کمیٹیاں اپنا کام پوری ذمہ داری سے نہیں کر رہیں ۔اس مشکل وقت میںپٹرول اور ڈیزل کے بڑھ جانے کی وجہ سے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے جو عوام کو ریلیف دیا ہے وہ قابل تعریف ہے انہوں نے پورے پنجاب میں فری ٹرانسپورٹ استعمال کرنے پر عوام کے دل جیت لئے ہیں اس طرح کے اقدامات کرنے سے عوام کو ریلیف مل سکتا ہے ۔ اوکسی حد تک بڑھتی ہو ئی بے روزگاری پر قابو پایا جا سکتا ہے۔