انعم عباسی
پاکستان میں افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل جاری ہے، مگر زمینی حقائق حکومت کے لیے ایک نئے امتحان کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ غریب اور نادار افغان خاندان قانونی کارروائیوں کے ڈر سے واپسی کی راہ اختیار کر چکے ہیں، لیکن سیاسی پشت پناہی رکھنے والے بااثر افغان مہاجرین اب بھی مزے سے پاکستان میں موجود ہیں۔ کراچی سے خیبر تک مہنگی گاڑیوں میں گھومتے یہ افغان شہری واپسی کے حکومتی احکامات کو خاطر میں نہیں لا رہے۔
مسئلہ صرف افغان مہاجرین کا نہیں، کچھ پاکستانی مفاد پرست عناصر بھی اس بحران کو طول دینے میں برابر کے شریک ہیں۔ ایسے افراد، جن کی جائیدادیں مہاجرین کو کرائے پر دی گئی ہیں، تاخیری حربے اپنا کر نہ صرف قانون کا مذاق اڑا رہے ہیں بلکہ ریاستی رٹ کو بھی چیلنج کر رہے ہیں۔
حالیہ کارروائیوں کے دوران جب اسلام آباد سے بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کو بے دخل کیا گیا تو ان میں سے کئی خاندان راولپنڈی، گجر خان، ٹیکسلا، حسن ابدال اور اٹک جیسے قریبی شہروں میں جا بسے۔ اطلاعات کے مطابق کچھ پراپرٹی ڈیلرز نے انہیں نہ صرف رہائش فراہم کی بلکہ اس کے عوض بھاری کمیشن بھی وصول کیا۔ یہ عمل ایک مکمل کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں قانون شکنی کے بدلے روپے کھرے کیے جا رہے ہیں۔
نادرا ذرائع کے مطابق اس وقت پاکستان میں تین اقسام کے افغان مہاجرین موجود ہیں:
1. وہ افراد جو 1979 یا اس کے بعد پاکستان آئے اور جنہیں POR (Proof of Registration) کارڈ جاری کیا گیا؛
2. وہ افغان شہری جو 2004 یا بعد میں داخل ہوئے اور ACC (Afghan Citizen Card) کے حامل ہیں؛
3. ایسے افغان مہاجرین جن کے پاس کوئی بھی قانونی یا سرکاری شناختی دستاویز موجود نہیں۔
حکومتی پالیسی کے مطابق اس وقت صرف POR کارڈ ہولڈرز کو 30 جون 2025 تک پاکستان میں قیام کی اجازت دی گئی ہے، جب کہ ACC کارڈ رکھنے والے اور بغیر دستاویزات والے افراد کو غیر قانونی قرار دے کر ملک بدر کرنے کا عمل جاری ہے۔
یہ بات بھی اہم
ے کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں شہریت کا حصول ازخود ممکن نہیں، تاہم افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ بعض افغان باشندوں نے بھاری رشوت کے عوض نادرا سے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کر لیے ہیں۔ اگر ان الزامات میں سچائی ہے تو نہ صرف ان افغان شہریوں بلکہ نادرا کے ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
موجودہ صورتحال یہ بتاتی ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی کا حکومتی اعلان صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ اور حساس مسئلہ بن چکا ہے۔ اس کے مؤثر حل کے لیے صرف قانون نہیں، نیت، حکمتِ عملی، اور اداروں کی شفافیت بھی ناگزیر ہے۔