سینٹکام آج ٹرمپ کو ایران کیخلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر بریفنگ دے گی: امریکی میڈیا

سینٹکام آج ٹرمپ کو ایران کیخلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر بریفنگ دے گی: امریکی میڈیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آج جمعرات کے روز ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائیوں سے متعلق اہم بریفنگ دی جائے گی، جس سے خطے میں ایک بار پھر شدید کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف تیار کیے گئے نئے عسکری آپشنز پر بریف کریں گے، جبکہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین بھی اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں شریک ہوں گے۔رپورٹ کے مطابق سینٹکام نے ایرانی اہداف پر "مختصر مگر انتہائی طاقتور" حملوں کی ایک نئی لہر کا منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں ممکنہ طور پر اہم بنیادی تنصیبات اور اسٹریٹجک انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ امریکی حکام کو امید ہے کہ اس عسکری دباؤ کے ذریعے تہران کو جوہری مذاکرات میں زیادہ لچک دکھانے پر مجبور کیا جا سکے گا۔ذرائع کے مطابق زیرِ غور دیگر عسکری آپشنز میں آبنائے ہرمز کے بعض حصوں پر امریکی کنٹرول قائم کرنا، تجارتی بحری گزرگاہ کو مکمل طور پر اپنی نگررانی میں لینا، اور ایران کے انتہائی افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کو تحویل میں لینے کے لیے خصوصی زمینی فوجی دستے بھیجنے کی تجاویز شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ مسلسل ایران کے جوہری پروگرام کو امریکا اور خطے کی سلامتی کے لیے فوری خطرہ قرار دیتے آ رہے ہیں، جبکہ ایران ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد، توانائی کی پیداوار اور سائنسی تحقیق کے لیے ہے، اور اسے نیوکلیئر نان پرو لیفریشن ٹریٹی کے تحت یورینیئم افزودگی کا حق حاصل ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن اس وقت "فوجی دباؤ اور سفارتی مذاکرات" کی دوہری حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، یعنی ایک طرف عسکری تیاریوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب ایران کو مذاکرات کی میز پر جھکانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو یہ 1949 کے جنیوا کنونشنز   کی صریح خلاف ورزی اور ممکنہ جنگی جرم تصور ہو سکتا ہے۔

امریکی میڈیا میں سامنے آنے والی ان اطلاعات کے بعد عالمی منڈیوں، خصوصاً تیل کی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بھی گہری تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ کسی بھی نئی امریکی کارروائی سے پورا خطہ ایک بار پھر بڑے فوجی تصادم کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔