قدرت کا حیران کن شاہکار، دو رنگوں والا نایاب جھینگا دریافت

قدرت کا حیران کن شاہکار، دو رنگوں والا نایاب جھینگا دریافت

امریکی ریاست میساچوسٹس کے جزیرہ نما علاقے کیپ کوڈ کے ساحل سے دو رنگوں والا انتہائی نایاب جھینگا دریافت ہوا ہے، جس نے سمندری ماہرین اور عوام دونوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔

بھورے اور شوخ نارنجی رنگ میں منقسم اس غیرمعمولی جھینگے کو ماہرین قدرت کا حیرت انگیز شاہکار قرار دے رہے ہیں۔ سمندری حیاتیات کے ماہرین کے مطابق اس نوعیت کا "اسپلٹ کلر" جھینگا تقریباً 5 کروڑ میں ایک بار دیکھنے کو ملتا ہے، جس کے باعث یہ دریافت غیرمعمولی سائنسی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔یہ نایاب جھینگا 16 اپریل کو ٹموتھی مائیکل نامی ماہی گیر کشتی کے عملے نے کیپ کوڈ کے قریب سمندر سے پکڑا۔ عملے کے افراد اس کی منفرد ساخت دیکھ کر دنگ رہ گئے کیونکہ سر سے دم تک اس کا جسم بالکل دو حصوں میں تقسیم ہے، ایک طرف قدرتی بھورا رنگ جبکہ دوسری طرف شوخ نارنجی رنگ نمایاں ہے۔ جھینگے کا وزن بھی 3 پاؤنڈ سے زائد بتایا گیا ہے۔سمندری ماہرین کے مطابق اس غیرمعمولی رنگت کی بنیادی وجہ ایک نادر جینیاتی تبدیلی ہے۔ بعض سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دو بارآور جھینگا انڈے ابتدائی مرحلے میں ضم ہو کر ایک ہی جسم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسم کے دونوں حصوں میں الگ الگ رنگت نمودار ہوتی ہے۔

یہ جھینگا ویل فلیٹ شیلفش کمپنی کے ذریعے فروخت یا خوراک کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے ووڈز ہول سائنس ایکویریئم کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ اس نادر سمندری مخلوق کو محفوظ رکھا جا سکے اور عوام کو بھی قدرت کے اس عجوبے سے روشناس کرایا جا سکے۔ ایکویریئم حکام کے مطابق تزئین و آرائش مکمل ہونے کے بعد 2027 میں اسے باقاعدہ نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔فی الحال اس نایاب جھینگے کو میرین بایولوجیکل لیبارٹری میں خصوصی نگہداشت میں رکھا گیا ہے، جہاں ماہرین اس کی جینیاتی ساخت اور رنگوں کے اس حیرت انگیز امتزاج کا مزید مطالعہ کر رہے ہیں۔