ایران جنگ نے امریکہ کو ہلا دیا، اربوں ڈالرز کا نقصان

 امریکی عوام پر 27.8 ارب ڈالرز کا اضافی مالی بوجھ،60 فیصد حملوں کے خلاف
کوریا کی ، افغانستان، ایران تنازع تک لاکھوں افراد جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے 
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ کی گزشتہ کئی دہائیوں پر محیط جنگوں نے نہ صرف انسانی جانوں کا بڑا نقصان کیا بلکہ ملکی معیشت پر بھی بھاری بوجھ ڈالا ہے، جبکہ حالیہ ایران جنگ کو اخراجات کے اعتبار سے سب سے مہنگی جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کوریا کی جنگ سے لے کر افغانستان اور حالیہ ایران تنازع تک لاکھوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ کھربوں ڈالرز جنگی اخراجات پر خرچ کیے گئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2001 کے بعد امریکی قیادت میں ہونے والی جنگوں میں تقریباً 9 لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی تھی۔افغانستان جنگ، جو 2001 سے 2021 تک جاری رہی، امریکا کی تاریخ کی طویل ترین جنگ سمجھی جاتی ہے۔ اس دوران 8 لاکھ سے زائد امریکی فوجی تعینات رہے، جن میں 2 ہزار 461 ہلاک اور کم از کم 20 ہزار زخمی ہوئے، تاہم سب سے زیادہ نقصان مقامی آبادی کو برداشت کرنا پڑا۔رپورٹس کے مطابق حالیہ ایران جنگ، جو تقریباً 60 دن جاری رہی، اخراجات کے لحاظ سے انتہائی مہنگی ثابت ہوئی۔ جنگ کے ابتدائی 6 دنوں میں ہی تقریباً 11.3 ارب ڈالرز اسلحے پر خرچ کیے گئے، جبکہ پہلے ہفتے کے اختتام تک یہ رقم 12.7 ارب ڈالرز تک پہنچ گئی۔ بعد ازاں روزانہ اخراجات تقریباً 500 ملین ڈالرز تک رہے۔ایران میں اس جنگ کے نتیجے میں کم از کم 3 ہزار 375 افراد ہلاک ہوئے جبکہ امریکی فوج کے 13 اہلکار بھی مارے گئے اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس جنگ کے خلاف امریکا کے اندر بھی شدید عوامی ردعمل سامنے آیا، جہاں ایک سروے کے مطابق 60 فیصد امریکی شہری ایران پر حملوں کے خلاف ہیں۔