ایلون مسک کا خیراتی ادارے اور منافع سے متعلق انحراف کا اعتراف

 عدالت نے ایلون مسک کو سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط برتنے کی ہدایت کی
واشنگٹن (آئی این پی )امریکی عدالت میں جاری اہم مقدمے میں ایلون مسک نے بیان دیا ہے کہ اوپن اے آئی کی قیادت نے ادارے کے اصل خیراتی مقصد سے انحراف کیا اور اسے منافع کمانے والی کمپنی میں تبدیل کر دیا ہے۔  عالمی  میڈیا رپورٹس کے مطابق ایلون مسک نے عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ اگر خیراتی اداروں کو اس طرح اے آئی کا استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تو عوام کے اعتماد اور عطیات کے نظام کو شدید نقصان پہنچے گا۔انہوں نے الزام لگایا ہے کہ سیم آلٹمین اور گریگ بروک مین نے عوام اور ان سے کیے گئے وعدے توڑے ہیں۔دوسری جانب اوپن اے آئی کے وکیل نے عدالت میں مقف اختیار کیا ہے کہ خود ایلون مسک ابتدا میں ادارے کو منافع بخش بنانے کے خواہاں تھے اور قیادت حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن ناکامی کے بعد انہوں نے مقدمہ دائر کر دیا۔واضح رہے کہ دنیا کی امیر ترین شخصیت ایلون مسک اس مقدمے میں 150 ارب ڈالرز ہرجانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اوپن اے آئی دوبارہ غیر منافع بخش ادارہ بنے اور موجودہ قیادت کو برطرف کیا جائے۔  میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے سماعت کے دوران ایلون مسک کو سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط برتنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ مقدمے میں مزید اہم شخصیات کے بیانات بھی متوقع ہیں جبکہ یہ کیس مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔