پنجاب میں سائبر کرائم کیسز کا اختیار پولیس کو دینے کا فیصلہ

لاہور (کرائم رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب نے سوشل میڈیا پر خواتین اور بچوں کی جنسی ہراسگی سمیت سائبر کرائم کیسز کے حوالے سے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ان مقدمات کی تفتیش اور کارروائی کا اختیار پولیس کو دینے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔تفصیلات کے مطابق سائبر کرائم کیسز کے مؤثر تدارک کے لیے پولیس کو براہ راست کارروائی کا اختیار حاصل ہو گیا ہے، جبکہ سی سی ڈی کی طرز پر ایک نیا محکمہ قائم کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے تاکہ ڈیجیٹل جرائم سے نمٹنے کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔حکام کے مطابق اب سوشل میڈیا پر ہراسگی، بلیک میلنگ اور دیگر آن لائن جرائم کے مقدمات براہ راست پولیس میں درج کیے جا سکیں گے، جس سے فوری کارروائی ممکن ہو گی۔ اس سے قبل پولیس کو ایسے مقدمات میں محدود اختیارات حاصل تھے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ نئے فیصلے کے بعد آن لائن ہراسگی کا شکار افراد اب بلا جھجک براہ راست پولیس سے رجوع کر سکیں گے، اور ڈیجیٹل جرائم کے خلاف فوری ایکشن لیا جا سکے گا۔حکام کے مطابق اس اقدام سے  خواتین اور نوجوانوں کو بہتر تحفظ فراہم ہوگا اور سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ڈیجیٹل سیکیورٹی کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔