لاہور میں سائبر کرائم میں اضافہ‘پولیس کا خود تفتیش کرنیکا فیصلہ

 100 سے زائد مقدمات کی تفتیش جاری ‘ پی ٹی اے اور ایف آئی اے سے بھی معاونت لی جا رہی ہے
لاہور( کرائمرپورٹر )لاہور میں اسلحہ کے زور پر کرائم کے ساتھ سائبر کرائم میں بھی اصافہ ہونے لگا۔خواتین کو ہراساں کرنے ، مالی فراڈ ،فیک ویڈیو اور بلیک میل کرنے پر پولیس مقدمہ درج کر کے خود تفتیش کرے گی۔پولیس زرائع کے مطابق لاہور میں پہلی بار محکمہ پولیس میں سائبر کرائم یونٹ قائم کر دیا گیا جس کے بعد پولیس کو سائبر کرائم میں مختلف نوعیت کے درخواستیں موصول ہونے لگی  ہیں اور اب تک پیکا ایکٹ کے تحت مختلف تھانوں میں 35 مقدمات درج کر لیے گئے۔ پولیس کا مزید کہنا ہے  خواتین کو ہراساں کرنے ، مالی فراڈ ،فیک ویڈیو اور بلیک میل کرنے پر پولیس مقدمہ درج کر کے خود تفتیش کرے گی اس سے پہلے ایسے تمام کیسز کو ایف آئی اے کو بھجوا دیا جاتا تھا  اس کے علاوہ لاہور میں درج 100 سے زائد مقدمات کی تفتیش جاری ہے جس میں پی ٹی اے اور ایف آئی اے سے بھی معاونت لی جا رہی ہے زیادہ تر کیسز مالی فراڈ ، دوسرے نمبر پر ہراسمنٹ اور تیسرے پر بلیک میلنگ کے شامل ہیں ملزمان  سوشل میڈیا پر چلنے والے اکاؤنٹ سے کسی بھی شخص کی انفارمیشن حاصل کرتے ہیں اور خود کو سرکاری ملازم ، دوست یا رستے دار بند کر کال کرتے اور فراڈ کرتے ہیں زیادہ تر شہریوں کو سویٹ ٹاک ،انعامات کا لالچ ، آن لائن کیش اور فیک مسیج کے ذریعے لوٹ لیا جاتا ہے