ہیٹ ویو کی تپش میں انسانیت کا امتحان

 رفیع صحرائی
قدرت کے اشارے ہمیشہ خاموش نہیں رہتے، وہ کبھی کبھی جھلسا دینے والی گرمی کی صورت میں ہمیں جھنجھوڑ کر جگا دیتے ہیں۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم جاگتے ہیں یا عضوِ معطل بن کر خوابِ خرگوش کے اسیر رہتے ہیں۔
پاکستان اس وقت جس موسمی کیفیت سے گزر رہا ہے وہ محض موسمِ گرما کی شدت نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر آزمائش کا منظرنامہ پیش کر رہی ہے۔ درجہ حرارت 40 ڈگری کی حد پار کر کے بعض علاقوں میں 47 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئیاں ہو رہی ہیں۔ اس وقت سڑکیں دہک رہی ہیں، ہوائیں آگ اْگل رہی ہیں اور زندگی کا پہیہ گھمانے والا عام آدمی، خصوصاً محنت کش طبقہ اس کڑی آزمائش میں بری طرح پِس رہا ہے۔ یہ منظر صرف موسم کی سنگینی نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی اور پیش بندی کے فقدان کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ جب ایک مزدور دہکتے ہوئے فرش پر جھلسی ہوئی اینٹیں اٹھاتا ہے یا کوئی رکشہ ڈرائیور تپتی دھوپ میں روزی کماتا ہے تو محنت کی عظمت کا حقیقی مفہوم آشکار ہوتا ہے۔ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہی طبقہ سب سے زیادہ متاثر اور سب سے کم محفوظ ہے۔ ایسے میں معاشرے کے صاحبِ استطاعت افراد کے لیے یہ وقت تماشائی بنے رہنے کا نہیں بلکہ عملی کردار ادا کرنے کا ہے۔
 سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض موسمی شدت ہے یا موسمیاتی تبدیلی کا واضح اشارہ؟ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں بے وقت بارشیں، طویل خشک سالی، غیر معمولی گرمی اور دیگر موسمی تغیرات اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی اب محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ ‘‘ہیٹ ویو’’ اور ‘‘ہیٹ برسٹ’’ جیسے مظاہر اسی بگڑتے ہوئے نظامِ قدرت کی خطرناک علامات ہیں جو انسانی صحت، معیشت اور ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ 
یاد رہے کہ شدید گرمی کے اثرات براہِ راست انسانی جسم پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ہیٹ اسٹروک، پانی کی شدید کمی، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور بے ہوشی جیسے خطرات کسی بھی لمحے جان لیوا صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ بچے، بزرگ اور محنت کش اس خطرے کی زد میں سب سے آگے ہیں۔ یہاں ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم بحیثیت قوم احتیاطی تدابیر کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، حالانکہ معمولی احتیاط بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے۔ ایسے حالات میں انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کا احساس ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اگر ہر محلہ چند باشعور افراد پر مشتمل ایک فلاحی ٹیم تشکیل دے دے تو بہت سی مشکلات کا حل نکل سکتا ہے۔ اس نوجوانوں کی ٹیم کے ذریعے ایسے گھروں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے جہاں پنکھے، کولر یا ٹھنڈے پانی کی سہولت میسر نہیں، باہمی تعاون سے یہ کمی پوری کی جا سکتی ہے۔ سڑک کنارے کام کرنے والے مزدوروں، ریڑھی بانوں اور مسافروں کے لیے سایہ، ٹھنڈا پانی اور مختصر آرام گاہوں کا انتظام کوئی ناممکن امر نہیں۔ بس اڈوں، ریلوے اسٹیشنز اور دیگر عوامی مقامات پر پانی کے کولر، سایہ دار جگہیں اور شجرکاری جیسے اقدامات نہ صرف فوری راحت فراہم کرتے ہیں بلکہ یہ ایک دیرپا صدقہ جاریہ بھی ہیں۔ نوجوان اگر منظم ہو کر مسافروں کو ٹھنڈا پانی فراہم کریں تو یہ خدمت انسانیت کی ایک روشن مثال بن سکتی ہے۔

یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ گرمی کی شدت صرف انسانوں تک محدود نہیں بلکہ جانوروں اور پرندوں کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے۔ گھروں، گلیوں اور چھتوں پر پانی کے برتن رکھنا اور سڑکوں کے کنارے درخت لگانا بظاہر معمولی مگر اثر کے اعتبار سے نہایت اہم اعمال ہیں۔ بس ضرورت ارادے اور جذبے کے ساتھ ساتھ اجتماعی بھلائی کی سوچ کی ہے۔
دوسری جانب حکومتی سطح پر بھی فوری اور مؤثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ پانی کی بلا تعطل فراہمی، بجلی کی مسلسل دستیابی، ہسپتالوں میں ہنگامی سہولیات کی فراہمی اور عوامی آگاہی مہمات اس وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔ بالخصوص دیہی اور پسماندہ علاقوں میں یہ اقدامات زندگی اور موت کے درمیان فرق پیدا کر سکتے ہیں۔
تاہم یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں ہوتے۔ ایک زندہ اور باشعور قوم وہی ہوتی ہے جو مشکل حالات میں خود بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔
 ہمیں اپنے طرزِ زندگی میں سادگی، احتیاط اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کی عادت اپنانا ہوگی۔
شدید گرمی کا یہ موسم دراصل ہمارے اخلاقی، سماجی اور انسانی رویوں کا امتحان ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ عمل کا تقاضا کرتی ہے۔ کسی پیاسے کو پانی پلانا، کسی مزدور کو سایہ فراہم کرنا یا کسی ضرورت مند کے لیے پنکھا مہیا کر دینا، یہی وہ چھوٹے چھوٹے اعمال ہیں جو معاشروں کو زندہ رکھتے ہیں۔ اگر ہم نے اس موقع کو غفلت کی نذر کر دیا تو آنے والے دن مزید کڑے ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم نے ہمدردی، تعاون اور ذمہ داری کو اپنا شعار بنا لیا تو یہی جھلستی گرمی ہمارے لیے رحمت کا پیغام بھی بن سکتی ہے۔
یاد رکھیے! قدرت کے اشارے ہمیشہ خاموش نہیں رہتے، وہ کبھی کبھی جھلسا دینے والی گرمی کی صورت میں ہمیں جھنجھوڑ کر جگا دیتے ہیں۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم جاگتے ہیں یا عضوِ معطل بن کر خوابِ خرگوش کے اسیر رہتے ہیں۔