گل پلازہ-- انسانیت ایک بار پھر جھلس گئی

عنبرین خان
ِکراچی  شہر کے دل میں واقع ایک اہم مارکیٹ کی تباہی نے دوبارہ سے شہر بھر میں فائر سیفٹی اور شہری تحفظ کے امور کو سوالات کے دائرہ میں لاکھڑا کیا ہے‘اس المناک آتشزدگی نے واضح کیا ہے کہ شہری سہولیات، حفاظتی نظام، اور شاپنگ مالز و مارکیٹس میں فائر سَفٹی کے معیارات پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔
گل پلازہ  صرف ایک عمارت میں لگی آگ نہیں تھی،یہ شہر کے سینے میں بھڑکنے والا وہ شعلہ تھا جس نے لمحوں میں کئی زندگیاں، کئی خواب اور کئی گھر راکھ کر دیے۔گل پلازہ کی آتشزدگی ایک ایسا سانحہ ہے جس میں جلنے والی چیزیں صرف دیواریں اور دکانیں نہیں تھیں، بلکہ وہ امیدیں بھی تھیں جو محنت کش لوگ روزانہ کی بنیاد پر اپنے ساتھ اس عمارت میں لے کر آتے تھے۔ کسی کا واحد ذریعہ روزگار، کسی کی عمر بھر کی جمع پونجی، کسی کے بچوں کا مستقبل—سب کچھ دھوئیں میں تحلیل ہو گیا۔آگ کے شعلے جب بلند ہوئے تو چیخیں بھی بلند ہوئیں۔ وہ چیخیں جو مدد مانگ رہی تھیں، وہ آنکھیں جو راستہ ڈھونڈ رہی تھیں، اور وہ دل جو آخری بار اپنے پیاروں کو یاد کر رہے تھے۔ کچھ لوگ کھڑکیوں کے پیچھے محصور تھے، کچھ سیڑھیوں پر، اور کچھ قسمت کے رحم و کرم پر۔ دھواں اتنا گہرا تھا کہ سانس لینا جرم بن گیا اور زندگی ایک امتحان۔
یہ سانحہ ہم سے سوال کرتا ہے:کیا انسانی جانیں واقعی اتنی سستی ہیں؟کیا حفاظتی انتظامات صرف فائلوں اور کاغذوں تک محدود رہیں گے؟
اور کیا ہر حادثے کے بعد چند رسمی بیانات اور چند دن کا سوگ ہی ہمارا مقدر ہے؟متاثرین کے لواحقین کے لیے یہ حادثہ کوئی خبر نہیں، یہ ایک نہ ختم ہونے والا دکھ ہے۔ وہ مائیں جو بیٹوں کا انتظار کرتی رہیں، وہ بچے جو والد کی آہٹ کے منتظر ہیں، اور وہ بیوائیں جن کی دنیا ایک لمحے میں ویران ہو گئی—ان کے لیے وقت بھی شاید مرہم نہیں بن پائے گا۔گل پلازہ کی آگ بجھ چکی ہے،مگر دلوں میں لگی آگ ابھی زندہ ہے۔
یہ آگ ہمیں جھنجھوڑتی رہے گی،جب تک ہم جاگ نہ جائیں،جب تک انسانی جان کو واقعی  قیمتی نہ سمجھ لیں
یہ حادثات نہیں، یہ ایک طویل جرم کی قسطیں ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی؟سوال یہ ہے کہ ہر بار آگ لگنے کے بعد بھی کوئی نظام کیوں نہیں جلتا؟کوئی کرسی کیوں نہیں خاک ہوتی؟یہ شہر انسانوں سے زیادہ پلازوں، مالز اور فائلوں کا شہر بن چکا ہے۔جہاں فائر سیفٹی صرف کاغذوں میں ہوتی ہے،ایگزٹ صرف نقشوں میں ہوتے ہیںاور انسانی جان صرف ایک نمبر بن کر رہ جاتی ہے۔کچھ دن سوگ، کچھ دن شور،پھر سب کچھ معمول پر۔مرنے والوں کے گھر اجڑ جاتے ہیںاور جینے والوں کا ضمیر سو جاتا ہے۔گل پلازہ کی راکھ میں صرف جسم نہیں جلے،سوال جلے ہیں،انصاف جلا ہے،اور اس شہر کی انسانیت ایک بار پھر جھلس گئی ہے۔جب گل پلازہ جیسی عمارتیں آباد ہوئیں تو کیا آگ سے بچاؤ کے انتظامات محض کاغذی کارروائی تھے؟
فائر ایکزٹ، الارم، ہنگامی راستے اور فائر فائٹنگ سسٹم کہاں تھے؟یا پھر انسانی جانوں سے زیادہ فائلوں کی تکمیل اور رشوت کی مہر ضروری تھی؟
سندھ حکومت سے سوال ہے:
کیا آپ کو علم نہیں تھا کہ یہ عمارتیں موت کے پنجرے بن چکی ہیں؟اگر علم تھا تو خاموشی کیوں؟اور اگر علم نہیں تھا تو یہ نااہلی کس کے کھاتے میں ڈالی جائے‘ہر سانحے کے بعد تحقیقات کے اعلانات، معطلیوں کی رسمی خبریں اور چند دن کا شور—
پھر سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔مگر جو ماں اپنے بیٹے کی راکھ اٹھا کر لوٹی ہے،کیا وہ بھی یہ سانحہ بھول سکے گی؟
ہم پوچھتے ہیں سندھ حکومت سے:کیا اس آگ کے ذمہ دار صرف بجلی کے تار تھے؟یا وہ نظام بھی مجرم ہے جو برسوں سے آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا؟یہ وقت تعزیتی بیانات کا نہیں،یہ وقت جواب دہی کا ہے۔ناموں کے ساتھ، ثبوتوں کے ساتھ، اور سزا کے ساتھ۔کیونکہ اگر آج بھی سوال نہ اٹھایا گیا،تو کل کسی اور عمارت میں‘کسی اور کا باپ، کسی اور کی ماں کسی اور کے بچے اورپیارے عزیز رشتے دار اسی طرح دھوئیں میں گم ہو جائیں گے ‘یہ تحریر مرنے والوں کے لیے نوحہ نہیں،جینے والوں کے لیے فردِ جرم ہے۔کیونکہ جب تک بے حسی زندہ ہے،
گل پلازہ آخری سانحہ نہیں ہوگا…
گل پلازہ کی آگ ہمیں متنبہ کر رہی ہے کہ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں تو یہ شعلے معمول بن جائیں گے۔ ہمیں آبادی کے دباؤ کو متوازن کرنے کے لیے دیگر شہروں میں باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے، تعمیرات کے قوانین پر بے لاگ عملدرآمد کرنا ہوگا، فائر سیفٹی کو رسمی خانوں سے نکال کر حقیقی حفاظتی نظام بنانا ہوگا، اور سب سے بڑھ کر—انسانی جان کو منافع سے مقدم رکھنا ہوگا۔
یہ تحریر الزام کے لیے نہیں، اصلاح کے لیے ہے۔ یہ پکار نفرت کی نہیں، ذمہ داری کی ہے۔ اہلِ اقتدار کو اس آتش فشاں کے پھٹنے سے پہلے سوچنا ہوگا، ورنہ—خاتم بدہن—گل پلازہ جیسے سانحات ہماری روزمرہ کی خبر بن جائیں گے، اور ہم ہر بار کسی نئی راکھ پر کھڑے ہو کر صرف افسوس ہی کرتے رہ جائیں گے۔