شہزادراجپوت
پاکستان ایک بار پھربڑی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ بارشوں کے ساتھ دریاؤں میں غیر معمولی طغیانی نے لاکھوں گھروں کو اجاڑ دیا ہے۔ کھیت کھلیان ڈوب گئے ہیں۔ معصوم بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو کھلے آسمان تلے پناہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ سب کچھ محض فطری آفات کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی رویے کا ثمر بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے سرحد کے اْس پار بھارت نے کشمیر میں ڈیموں کے دروازے کھول کر پانی کا ایسا ریلا چھوڑا ہے جو براہِ راست پاکستان کے دیہات اور قصبوں پر قہر بن کر ٹوٹ پڑا ہے۔یہ سوال آج ہر ذی شعور پاکستانی کے ذہن میں گونج رہا ہے کہ آخر پانی کو سیاسی ہتھیار بنانے کی اجازت کون دے رہا ہے؟ کیا دریاؤں کا بہاؤ انسانوں کے درمیان دشمنی کا باعث بننا چاہیے؟ کیا قدرتی وسائل کو زخم دینے کے لیے استعمال کرنا انصاف ہے؟ یہ عمل نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ انسانیت کے خلاف کھلا جرم ہے۔پاکستان کے کسان جنہوں نے سارا سال پسینہ بہا کر فصلیں اْگائیں آج ان کی محنت لہروں میں بہہ گئی۔ بچے جن کے خواب ابھی شروع بھی نہیں ہوئے تھے آج وہ روتے ہوئے اپنے ٹوٹے گھروں کو دیکھ رہے ہیں۔ عورتیں جو چولہوں پرکھانا پکا کر اپنے بچوں کا پیٹ بھرتی تھیں آج ان کے پاس لکڑی ہے نہ چھت، آٹا ہے نہ اناج۔ یہ صرف تباہی نہیں، یہ اجتماعی اذیت ہے جسے لفظوں میں سمیٹنا آسان نہیں۔دنیا کی تاریخ گواہ ہے پانی زندگی ہے، یہ شفا ہے، یہ بقا ہے۔ اگر پانی کو زہر بنایا جائے، اگر اس کے بہاؤ کو ہتھیار بنایا جائے تو یہ ظلم صرف سرحد پار کے ملک پر نہیں بلکہ پوری انسانیت پر ہوتا ہے۔ بھارت کے حکمرانوں کو یہ سوچنا چاہیے دریاؤں کو جنگی ہتھیار بنانا امن کے ایجنڈے کی نفی ہے۔ یہ صرف پاکستان کے خلاف سازش نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے دھماکہ خیز خطرہ ہے۔لیکن یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستانی قوم ہر آزمائش میں سر اٹھا کر کھڑی رہی ہے۔ چاہے زلزلے ہوں، سیلاب ہوں یا دہشت گردی اس قوم نے اپنے زخموں کو مرہم دے کر دوبارہ جینا سیکھا ہے۔ آج بھی یہ وقت اتحاد کا ہے۔ ہم سب کو اپنے بہن بھائیوں کے لیے قدم بڑھانا ہوگا، ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا اور دنیا کو یہ پیغام دینا ہوگا پاکستانی قوم کسی ظلم کے آگے نہیں جھکتی۔عالمی برادری کو چاہیے وہ اس سنگین مسئلے پر آواز بلند کرے۔ پانی کو ہتھیار بنانا عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اگر دنیا واقعی امن اور انصاف پر یقین رکھتی ہے تو اسے بھارت کو جوابدہ بنانا ہوگا۔ یہ مسئلہ محض دو ملکوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ہے۔میں اپنے ہم وطنوں کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں پاکستان ٹوٹے گا نہیں، بکھرے گا نہیں۔ ہم اس آفت سے پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر نکلیں گے۔ ہمارے بچے پھر سے مسکرائیں گے، ہمارے کھیت پھر لہلہائیں گے اور ہمارے دیہات پھر آباد ہوں گے۔ شرط صرف یہ ہے ہم متحد رہیں، ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور دنیا کو دکھا دیں پاکستان ظلم سہنے والا نہیں بلکہ ظلم کے خلاف ڈٹ جانے والا ملک ہے۔