اسلام آباد:صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے رائٹرز (Reuters) کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بھارت پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پہلگام واقعہ کو بنیاد بنا کر دنیا کے سامنے اپنے آپ کو امن پسند ظاہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس واقعے کی آڑ میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر ظلم و بربریت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔بیرسٹر سلطان محمود نے بھارت کی دہشت گردی کی کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر ظلم ڈھاتا ہے بلکہ وہ کینیڈا، پاکستان اور دیگر ممالک میں بھی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے، جس سے بھارت ایک عالمی دہشت گرد کے طور پر سامنے آیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو بھارت کی جارحیت اور دہشت گردی کے اقدامات کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اور قطر جیسے دوست ممالک سے درخواست کی کہ وہ پاک بھارت کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔پاکستان پر الزام تراشی کے حوالے سے صدر آزاد جموں وکشمیر نے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعہ کے چند منٹ بعد ہی اس کا الزام بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر عائد کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی بھی قوم ایسے بے بنیاد الزامات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
پہلگام واقعہ کے بعد بھارت نے انڈس واٹر ٹریٹی کو منسوخ کر کے آبی جارحیت شروع کی اور دریا جہلم میں پانی چھوڑ دیا۔ اسی طرح بھارت نے ہندوستان کے ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کے ویزے کینسل کر کے انہیں پاکستان بھیجنے کا حکم دیا، جو کہ بھارتی جارحیت اور ہندوتوا نظریے کی عکاسی کرتے ہیں۔بیرسٹر سلطان محمود نے 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے آرٹیکل 370 اور 35-A کی منسوخی کو بھی عالمی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو اپنی ہی سرزمین سے بے دخل کر دیا گیا اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا آغاز ہوا جو اقوام متحدہ کی کشمیر پر قراردادوں کے خلاف ہیں۔