پہلگام فالس فلیگ کے بعد بھارت میں جنگی جنون اور انتہا پسندی میں اضافہ ہوگیا ہے، اور مودی سرکار نے سرحدی علاقوں سے دیہات خالی کروانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارتی حکام نے پاکستان پر بغیر کسی ثبوت کے الزام عائد کرنے کے لیے میڈیا پروپیگنڈا کا سہارا لیا اور اس کے بعد اب پاک بھارت سرحد سے متصل دیہاتوں کو خالی کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق بھارتی فوج نے سامبا، کٹھوا اور اکھنور سیکٹر میں مزید دیہات خالی کروا لیے ہیں، جبکہ اٹاری سیکٹر میں بھی بھارتی حکام نے عوام کو فصلوں کی کٹائی کے لیے احکامات دیے تھے۔ اس کے علاوہ بھارت نے اپنے عوام کو حقائق سے بے خبر رکھنے کے لیے سیکڑوں پاکستانی چینلز کو بلاک کروا دیا ہے اور ہندوتوا کا زہریلا پروپیگنڈا پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی غیر منطقی پالیسیوں اور انتہا پسندی کی وجہ سے بھارتی عوام کی بڑی تعداد مودی سرکار سے دلبرداشتہ ہو چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے بغیر ثبوتوں کے پاکستان پر الزام لگانا اور جنگی جنون میں مبتلا ہونا مودی سرکار کی ناکامی کی واضح علامت ہے۔پہلگام فالس فلیگ کے بعد بھارت کی جانب سے کیے گئے انتہا پسندانہ اقدامات نہ صرف اس کی داخلی سیاسی مشکلات کو اجاگر کرتے ہیں، بلکہ عالمی سطح پر اس کی تنہائی اور خطرناک عزائم کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔اس صورتحال کو عالمی سطح پر بھی تنقید کا سامنا ہے، اور بھارتی حکومت کے اقدامات عالمی تعلقات اور امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔