پہلگام حملے سے متعلق بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو ایک بار پھر عالمی سطح پر پذیرائی نہ مل سکی۔
امریکا نے بھارتی دعوؤں پر کسی قسم کی انٹیلیجنس معلومات کی تصدیق سے انکار کرتے ہوئے غیر جانبدار رویہ اختیار کیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا ہے کہ واشنگٹن دونوں ممالک سے رابطے میں ہے لیکن انٹیلیجنس رپورٹس یا پیغامات پر تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ذمہ دارانہ حل کا حامی ہے اور چاہتا ہے کہ ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس مقصد کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔سیاسی مبصرین اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی خاموشی اور غیر جانبداری نے بھارتی بیانیے کی قلعی کھول دی ہے۔ پاکستان کے آزادانہ تحقیقات کے مطالبے کو عالمی سطح پر اہمیت دی جا رہی ہے، جو پاکستان کے موقف کی بین الاقوامی ساکھ کو مضبوط کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ بھارت نے بغیر ثبوت کے ہمیشہ کی طرح پاکستان پر الزامات عائد کیے، تاہم اس بار عالمی برادری خصوصاً امریکا کی جانب سے اس پر کوئی توثیق نہیں کی گئی، جس سے بھارت کو ایک سفارتی جھٹکا لگا ہے۔پاکستان نے پہلگام حملے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ الزامات کے بجائے شواہد سامنے لائے جائیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کا الزام تراشی پر مبنی بیانیہ صرف داخلی سیاست کو چمکانے کے لیے ہوتا ہے، جو عالمی سطح پر بار بار بے نقاب ہو چکا ہے۔