پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم نے حالیہ انٹرویو میں اپنی کارکردگی، اسٹرائیک ریٹ پر ہونے والی تنقید، اور ٹیم کی ضروریات کے مطابق کھیلنے کے عزم پر کھل کر بات کی۔
"بولنا مجھے بھی آتا ہے، مگر عزت کرنا سیکھا ہے"
بابر اعظم نے کہا کہ وہ بولنا جانتے ہیں، لیکن ان کے بڑوں نے انہیں سکھایا ہے کہ ہر کسی کی عزت کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ گراؤنڈ میں اپنی کارکردگی سے جواب دینا پسند کرتے ہیں اور باتوں سے نہیں۔
اسٹرائیک ریٹ پر تنقید کا جواب
بابر اعظم نے اسٹرائیک ریٹ پر ہونے والی تنقید کے بارے میں کہا کہ کرکٹ تیزی سے بدل رہی ہے، اور وہ اس کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ میچ کی صورتحال اور ٹیم کی ضرورت کے مطابق کھیلتے ہیں، اور اسٹرائیک ریٹ کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔
بیٹنگ پوزیشنز میں لچک
بابر اعظم نے بتایا کہ انہوں نے مختلف بیٹنگ پوزیشنز پر کھیل کر ٹیم کی ضروریات کو پورا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ذاتی ہدف کبھی نہیں رہا کہ وہ صرف اوپنر کے طور پر کھیلیں، بلکہ وہ ٹیم کی ضرورت کے مطابق کسی بھی نمبر پر کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔
ذاتی کارکردگی اور ٹیم کی کامیابی
بابر اعظم نے کہا کہ وہ اپنی کارکردگی سے کبھی مطمئن نہیں ہوتے، چاہے وہ نمبر ون پوزیشن پر ہوں یا اچھی پرفارمنس دے رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ آگے کا سوچتے ہیں اور ملک کے لیے بہتر کارکردگی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
پی ایس ایل اور فینز کا دباؤ
بابر اعظم نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کو ایک بہترین لیگ قرار دیا اور کہا کہ غیر ملکی کھلاڑی بھی اس میں کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے فینز کے پیار اور توقعات کے بارے میں کہا کہ یہ دباؤ بھی ہوتا ہے اور اعتماد بھی ملتا ہے، اور وہ ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ فینز کو مایوس نہ کریں۔