رفیع احمد
ہمارے ملک کی کل آبادی کا 64 ، فیصد حصہ جوانوں پر مشتمل ہے،ہمارے نوجوانوں میں تعلیم کا تناسب بھی بہتر ہے۔ یہ نوجوان بھی اپنی صلاحیتوں میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔کسی بھی ملک کی تعمیر وترقی اور سلامتی کا تعلق اس کے اپنے تعلیمی اداروں سے جڑا ہوتا ہے۔ یہ ادارے اپنے طلبہ کو جدید تعلیم کے ساتھ کردار سازی، شخصیت کی تعمیر اور سب سے بڑھ کر ان میں وطن سے محبت کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ بد قسمتی سے تعلیمی ادارے ان عظیم الشان مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔
کیونکہ دور حاضر کی سب سے بڑی اور بری لت، منشیات ہے، اب اس سے ہمارے تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہیں رہے ہیں، ایک منظم سازش کے تحت منشیات کا میٹھا زہر نسل نو کی رگوں میں پہنچانے کا کام کیا جا رہا ہے تاکہ وطن عزیز کمزور سے کمزور تر ہو، اس مکروہ دھندے میں قوم کا دشمن ہمیں کامیاب نظر آتا ہے۔ منشیات کے استعمال کرنے سے جہاں ہماری قیمتی خون پسینے کی کمائی بیرون ملک منتقل ہوتی ہے وہیں قیمتی جانوں کا بھی ضیاع ہورہا ہے۔ورلڈ بینک کی 2019 ، کی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بتایا گیا ہے کہ " پاکستان کے تعلیمی اداروں میں 43 فیصد طلبہ الکوحل اور دیگر منشیات کا استعمال کررہے ہیں"۔ تعلیمی اداروں میں سگریٹ، شراب، ہیروئن، ویپ یعنی الیکٹرانک سگریٹ،چرس، کرسٹل آئس اور ایکسٹیسی ٹیبلیٹ، کوکین اور وڈ (weed) کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔ حکومتوں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے طلبہ و طالبات میں مایوسی،بے چینی اپنے مستقبل کی فکر کی وجہ سے پین کلر ٹیبلیٹ کا استعمال کر کے ذہنی و جسمانی کمزور ہوتے جارہے ہیں۔تعلیمی اداروں میں منشیات جہاں منشیات فروش براہ راست پہنچاتے ہیں وہیں یہ آن لائن ، کوریئر سروس ، مختلف ویپ سایٹس اور خفیہ پیغامات کے ذریعے ان تک پہنچائی جاتی ہے۔منشیات کی مافیا مختلف طریقوں سے طلبہ کو اپنی جانب راغب کر کے ان کو اپنا آلہ کار بنا لیتی ہے اور پھر ان کے ذریعے مزید سے مزید طلبہ کو اپنے جال میں جکڑ لیتے ہیں۔ ان منشیات فروشوں نے الیکٹرانک سگریٹ (ویپ) کو عام سگریٹ کا متبادل بتا کر انہیں صرف کینسر کے ساتھ ذہنی و جسمانی کمزوریوں میں بھی مبتلا کر رہے ہیں، حکومت کی کمزور پالیسیوں کی وجہ سے جگہ جگہ ویپ شاپس کھلتی جارہی ہیں۔نوجوان طلبہ فیشن اور اپنے فرسٹریشن دور کرنے کے لیے نشہ آور گولیاں کا استعمال بھی کر رہے ہیں، یہ گولیاں انتہائی خطرناک ہیں اسکے استعمال سے یہ بڑے سے بڑا جرم کرنے سے بھی باز نہیں آتے ہیں قتل اور خود کشی بھی کر لیتے ہیں۔ماہرین صحت کے مطابق نشہ کرنے والے آپس میں استعمال شدہ سرنج کا تبادلہ کر کے، اپنے آپ کو ایڈز ( H.I.V) اور ٹی بی جیسے موذی امراض میں مبتلا کر لیتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے ان کی اموات کی اطلاعات اب تیزی سے آرہی ہیں، صرف کراچی شہر میں روز آنہ 8، سے 10، نشی افراد کی لاوارث لاشیں ملتی ہیں، ان میں زیادہ تر کم عمر جوانوں کی ہوتی ہیں۔ 22، مارچ 2025، کو کسٹم حکام نے 2.8 ، ارب روپے کی 56،لاکھ نشہ آور گولیاں ٹراما ڈول پکڑیں اس سے قبل فروری 2025 میں 10،ارب روپے کی ٹراما ڈول کو ضبط کیا گیا تھا۔ یہ بات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ وطن عزیز میں کتنی بڑی تعداد میں یہ ٹیبلیٹ کی سپلائی کی جاتی ہے،یہ ٹیبلیٹ کرسٹل آئس اور کوکین کی تیاری میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس آئے روز ان منشیات فروشوں کو گرفتار کرتی ہے جو یہ ٹیبلیٹ تعلیمی اداروں میں پہنچانے کا کام کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود اربوں روپے کی خرید وفروخت ہو جاتی ہے۔ ہماری یہ فورسز، اگر ڈرگ اسمگلرز کو نہ پکڑیں تو ہمارے تعلیمی اداروں کا نہ جانیکیا حال ہو گا۔جب بھی ہماری فورسز منشیات کی جب کھیپ پکڑتی ہے تو اسمگلر اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اس منشیات کو تعلیمی اداروں کے طلبہ کو بھی پہنچاتے ہیں۔کراچی کا مشہور کیس مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان قریشی نے بتایا کہ وہ ویڈ نامی نشہ پہلے پہل طلبہ کو مفت میں پلاتے اور پھر یہ ہمارے مستقل گاہک بن جاتیتھے، منشیات فروش، ملزم ساحر حسن اور ارمغان قریشی نے بتایا کہ مقتول طالب علم مصطفیٰ عامر بھی پہلے پہل منشیات کا استعمال کرتا تھا اور بعد میں سپلائی کرنے لگا تھا، ہم سب نے مصطفیٰ عامر کا خوفناک انجام بھی دیکھ لیا۔
حکومت سندھ کے محکمہ تعلیم نے گزشتہ سال اپنے تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف پالیسی بنانے کا اعلان بھی کیا ہے جس کے تحت وہ طلبہ کا رینڈم ڈرگس ٹیسٹ کرے گی، اب دیکھا یہ جائے گا کہ وہ کس طرح سندھ کے قریباً 400 ،سرکاری کالجز و نجی کالجز یونیورسٹیز کے آٹھ لاکھ سے زائد طلبہ کے ٹیسٹ کو کس طرح ممکن بناتی ہے، سچ بات تو یہ ہے کہ ہمیں محکمہ تعلیم میں یہ صلاحیت دور دور تک نظر نہیں آتی کہ وہ چند ہزار طلبہ کا ہی میڈکل ڈرگ ٹیسٹ کرا لے تو بڑی بات ہوگی۔
حکومت اگر تعلیمی اداروں میں منشیات کو روکنا چاہئے تو وہ ان کی حالت زار کو بہتر سے بہتر کرسکتی ہے اس کے لیے، تعلیمی بجٹ کو دگنا کرے،میرٹ پر اساتذہ و عملے کی بھرتی کرے،طلبہ کو کھیلوں کی سہولیات فراہم کرے، تعلیم کے بعد روزگار کی ضمانت دے،طلبہ یونین کے الیکشن کا فی الفور منعقد کرے،سرکاری کالجز میں پڑھائی نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے طالب علم صبح ہی سے شیشہ کیفے، ریسٹورنٹ ، ہوٹل کے ڈھابے میں پہنچ جاتے،پولیس کو چاہیے کہ وہ اسے بند کروائے، ویپ شاپس کو سیل کروائیں، محکمہ تعلیم پرنسپل و اساتذہ کی مدد سے اس بات کو یقینی بنائیں کہ کالجز میں طلبہ کی حاضری سو فیصد ہوگی، پرنسپل حضرات اساتذہ کی مدد سے انسداد منشیات کے زیادہ سے زیادہ پروگرامز منعقد کرے،جس میں مقابلہ تقاریر و تحریر ،ڈرامے، پوسٹرز،ورکشاپ، مذاکرے،ریلیاں، لیکچرز، انسدادِ منشیات پر مبنی وڈیوز اور ہم نصابی سرگرمیوں وغیرہ کا لازمی اہتمام کریں۔ والدین پرنسپل سے رابطے میں رہیں، پیرنٹس ٹیچر میٹنگ کا باقاعدہ اہتمام ہو،والدین اپنے بچوں پر کڑی نگاہ رکھیں،اسلامی تعلیمات سے آگہی دیں۔کتب بینی کو فروغ دیں۔
منشیات کی سونامی کو ہم نے آج مل کر اپنے تعلیمی اداروں میں نہیں روکا تو صرف چند سالوں میں نہایت خوفناک نتائج سامنے آئیں گے۔ اب بھی کچھ زیادہ نہیں بگڑا ہم سب ملکر اس کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں اور ثابت کریں کہ ہم بھی زندہ اور پائندہ قوم ہیں۔۔۔