محمد ندیم بھٹی
تعلیمی اداروں میں منشیات کی رسائی اب کوئی افواہ یا مبالغہ نہیں رھی بلکہ ایک تلخ حقیقت بن چکی ھے، جسے جتنا بھی نظر انداز کیا جائے، اس کی سنگینی کم نہیں ھوتی۔ سوال یہ نہیں کہ نشہ آور اشیاء کہاں سے آ رھی ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ھے کہ آخر وہ کون سا نظام ھے جو اس زہر کو درسگاہوں کی دہلیز تک پہنچنے سے روکنے میں ناکام ہو چکا ھے؟ کیا یہ صرف چند افراد کی مجرمانہ سرگرمیوں کا نتیجہ ھے یا پھر ایک ایسی اجتماعی غفلت ھے جس میں والدین، اساتذہ، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سب کسی نہ کسی حد تک شامل ہیں؟ جب علم کے مراکز ھی غیر محفوظ ھو جائیں، جب کتابوں کے سائے میں نشے کا کاروبار پروان چڑھنے لگے، تو پھر یہ سوال اٹھانا ناگزیر ھو جاتا ھے کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو کس سمت میں لے جا رھے ہیں۔
یہ مسئلہ محض چند بڑے شہروں تک محدود نہیں رہا بلکہ اب اس کی جڑیں چھوٹے قصبوں اور نیم شہری علاقوں تک بھی پھیل چکی ہیں۔ تعلیمی اداروں کے باہر کھڑے مشکوک افراد، طلبہ کے درمیان غیر معمولی روابط، اور کیفے ٹیریاز میں ھونے والی خفیہ سرگرمیاں اس بات کی نشاندھی کرتی ہیں کہ منشیات کا نیٹ ورک منظم انداز میں کام کر رہا ھے۔ پہلے پہل یہ سرگرمیاں چھپ کر ہوتی تھیں، مگر اب کئی جگہوں پر یہ ایک حد تک کھلے عام نظر آنے لگی ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو مزید بڑھا دیتی ھے۔
نوجوان نسل فطری طور پر تجسس کا شکار ھوتی ھے۔ یہی تجسس منشیات فروشوں کے لیے سب سے بڑا ہتھیار بن جاتا ھے۔ ابتدا میں دوستوں کے کہنے پر یا محض تجربہ کرنے کے لیے نشہ استعمال کیا جاتا ھے، مگر یہ عارضی تجربہ جلد ھی مستقل عادت میں بدل جاتا ھے۔ اس کے بعد واپسی کا راستہ نہایت مشکل ھو جاتا ھے، اور ایک روشن مستقبل رکھنے والا طالب علم اندھیروں میں کھو جاتا ھے۔ یہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ ایک پورے خاندان اور معاشرے کا نقصان ھے۔
والدین کی ذمہ داری اس معاملے میں بنیادی حیثیت رکھتی ھے۔ آج کے دور میں جہاں معاشی دباؤ بڑھ چکا ھے، وہاں والدین اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات میں اس قدر الجھ جاتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر مکمل نظر نہیں رکھ پاتے۔ بچے کب اور کس کے ساتھ وقت گزار رھے ہیں، ان کے دوست کون ہیں، اور وہ کس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، یہ سب سوالات اکثر نظر انداز ھو جاتے ہیں۔ یہی غفلت منشیات فروشوں کے لیے ایک سنہری موقع بن جاتی ھے۔
تعلیمی اداروں کی انتظامیہ بھی اس صورتحال سے لاتعلق نہیں رہ سکتی۔ اگر اداروں کے اندر سخت نگرانی کا نظام قائم کیا جائے، سکیورٹی کو مؤثر بنایا جائے، اور مشکوک سرگرمیوں پر فوری کارروائی کی جائے تو اس مسئلے کو کافی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ھے۔ مگر افسوسناک امر یہ ھے کہ کئی اداروں میں یہ اقدامات صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہتے ہیں، جبکہ عملی سطح پر کوئی خاطر خواہ تبدیلی نظر نہیں آتی۔
اساتذہ کا کردار بھی اس حوالے سے نہایت اہم ھے۔ ایک اچھا استاد نہ صرف علم دیتا ھے بلکہ اپنے طلبہ کی شخصیت اور رویوں کو بھی سمجھتا ھے۔ اگر کسی طالب علم کے رویے میں اچانک تبدیلی آئے، اس کی کارکردگی میں کمی ھو، یا وہ غیر معمولی خاموشی یا جارحیت کا مظاہرہ کرے تو
یہ خطرے کی گھنٹی ھو سکتی ھے۔ ایسے میں اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بروقت مداخلت کریں اور طلبہ کی رہنمائی کریں تاکہ وہ اس دلدل میں پھنسنے سے بچ سکیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری بھی کسی سے کم نہیں۔ اگر تعلیمی اداروں کے گرد و نواح میں منشیات فروخت ہو رھی ھ?ے تو یہ کیسے ممکن ھے کہ متعلقہ اداروں کو اس کی خبر نہ ہو؟ اس سے یا تو غفلت ظاہر ہوتی ھے یا پھر کسی نہ کسی سطح پر کمزوری۔ چیف منسٹر مریم نواز صاحبہ ضرورت اس امر کی ھے کہ اس معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے اور بلا امتیاز کارروائی کی جائے تاکہ ایسے عناصر کو عبرتناک انجام تک پہنچایا جا سکے۔سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ھے۔ اب منشیات کی خرید و فروخت کے لیے روایتی طریقوں کے بجائے جدید ذرائع استعمال کیے جا رھے ہیں۔ مختلف ایپس اور خفیہ گروپس کے ذریعے نوجوانوں تک رسائی حاصل کی جاتی ھے اور ھوم ڈیلیوری جیسے طریقے اپنائے جا رھے ہیں۔ یہ ایک نیا چیلنج ھے جس سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور حکمت عملی کی ضرورت ھے۔
معاشرتی دباؤ، بے روزگاری، اور ذہنی تناؤ بھی نوجوانوں کو اس طرف دھکیل رھے ہیں۔ جب ایک طالب علم کو اپنے مستقبل کے حوالے سے مایوسی کا سامنا ھو، اسے مواقع نہ ملیں، اور وہ خود کو تنہا محسوس کرے تو وہ وقتی سکون کے لیے نشے کا سہارا لیتا ھے۔ یہ ایک نفسیاتی پہلو ھے جسے نظر انداز کرنا مسئلے کو مزید سنگین بنا سکتا ھے۔
حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو صرف قانون کی نظر سے نہ دیکھے بلکہ اسے ایک سماجی اور نفسیاتی بحران کے طور پر تسلیم کرے۔ تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات چلائی جائیں، طلبہ کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے، اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے۔ کھیل، ادب اور تخلیقی سرگرمیاں نوجوانوں کی توانائی کو صحیح سمت میں لے جا سکتی ہیں۔
میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ھے۔ اگر میڈیا اس مسئلے کو سنجیدگی سے اجاگر کرے، تحقیقاتی رپورٹس سامنے لائے، اور ذمہ داران کی نشاندہی کرے تو اس سے نہ صرف عوام میں شعور بیدار ھوگا بلکہ متعلقہ اداروں پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ عملی اقدامات کریں۔ خاموشی اس مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس کی مزید پیچیدگی کا سبب بنتی ھے۔یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ بعض اوقات تعلیمی اداروں کے اندر موجود چند عناصر بھی اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث ھوتے ہیں۔ اگر ایسا ھے تو یہ نہ صرف ایک جرم ھے بلکہ ایک اخلاقی دیوالیہ پن کی بھی عکاسی کرتا ھے۔ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی نہایت ضروری ھے تاکہ اداروں کی ساکھ بحال ھو سکے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ھوگا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی رسائی ایک ایسا مسئلہ ھے جسے فوری اور سنجیدہ توجہ کی ضرورت ھے۔ اگر آج ہم نے اس پر قابو نہ پایا تو کل ہمیں ایک ایسی نسل کا سامنا کرنا پڑے گا جو جسمانی، ذہنی اور اخلاقی طور پر کمزور ھوگی۔ یہ صرف حکومت یا اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ھوگا۔یہ ایک جنگ ھے، اور اس جنگ میں جیتنے کے لیے ہمیں متحد ھونا ھوگا۔ والدین، اساتذہ، حکومت، میڈیا اور معاشرے کے ہر فرد کو مل کر اس ناسور کے خلاف کھڑا ھونا ھوگا۔ کیونکہ اگر آج ہم نے اپنی درسگاہوں کو محفوظ نہ بنایا تو کل ہمارا مستقبل بھی محفوظ نہیں رھے گا۔