معیاری طبی ادارے، غریب کی پہنچ سے دو ر کیوں؟

سیدمنیرحسین گیلانی

پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے پہلے پنجاب خصوصا ًلاہور میں طبی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے ماضی میں جھانکیں تو چند ہسپتال نمایاں نظر آتے ہیں، جن میں میو ہسپتال، سرگنگا رام ہسپتال، گلاب دیوی ہسپتال،لیڈی ولنگڈن ہسپتال اوردیگر بھی ہیںلیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی مسلمانوں کا تعمیر کردہ نہیں ، حالانکہ پنجاب کی اس وقت بھی اکثریتی آبادی مسلمانوں پر ہی مشتمل تھی، اور اسی طرح زمینداروں، صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کی بڑی تعداد اسلام کے پیروکار ہی تھے لیکن طبی سہولیات کے لیے کسی نے کوئی نمایاںکام نہیں کیا۔لاہور کے پرانے ہسپتال ہندوو ¿ں کے بنائے ہوئے ہیں یا پھرمسیحی انگریزوں کے نام پر ہیں۔ لیکن پاکستان بننے کے بعد الحمدللہ !میں کہہ سکتا ہوں کہ لاہور کے اندر انسانی صحت اور طبی سہولیات کے حوالے سے جو کام سرکاری اور نجی شعبے میں ہوا ہے ،اگرچہ یورپ اور امریکہ کے مقابلے کا تو نہیں لیکن پھر بھی قابل تعریف اوراطمینان بخش کوشش نظرضرور آتی ہے۔ پوتے پوتیو ںکا دادا اور نواسے نواسیوں کا نانا ہونے کے ناطے مجھے سابقہ ادوار کے ہسپتالوں کے علاوہ آج لاہور میں اچھے ہسپتال بھی نمایا ںنظر آتے ہیں، جن میں جوہر ٹائون میں شوکت خانم ہسپتال اور مغل آئی ہسپتال ،شریف میڈیکل سٹی رائیونڈ، نیشنل ہسپتال ڈیفنس ، اتفاق ہسپتال ماڈل ٹاون، شالامار ہسپتال مغل پورہ نجی شعبے میں جبکہ سروسز ہسپتال ،جنرل ہسپتال، پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سرکاری شعبے میں تعمیر ہوئے،وزیراعلیٰ مریم نواز نے کینسر ہسپتال بھی بنانے کا اعلان کیا ہے ،جو کہ خوش آئند ہے۔نجی شعبے میں تشکیل پانے والے ان ہسپتالوں میں طبی سہولیات دستیاب ہورہی ہیں،لیکن متوسط طبقے کے لوگ ان کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں، سوائے پی آئی سی کے ہر چیز کا لیبارٹری ٹیسٹ سے لے کر سرجری تک بھاری رقوم وصول کی جاتی ہیں جو کہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہی نہیں ،بہت دور ہیں۔
جب کبھی کسی بڑے آدمی کو مرض لاحق ہوتا ہے تو وہ یورپ یا امریکہ جا کر اپنا علاج اور طبی ٹیسٹ کرواتا ہے۔نجی شعبے میں قائم طبی اداروں میں ڈاکٹرز حضرا ت اپنے شعبوں میں ماہر ہیں ، اچھی استعداد ،قابلیت اور صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔وہ مریضوں پر توجہ بھی دیتے ہیں۔میںنے خود امریکہ جاکر علاج کروانے سے پاکستانی ہسپتالوں کو ترجیح دی ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور محمد و آل محمد کے صدقے میں بہتر نتائج حاصل ہوئے۔مجھے خود اپنا اور اپنی اہلیہ کے علاج کے لیے ہسپتالوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے ،جب بھی بل ادا کیے توچودہ طبق روشن ہو گئے۔لیکن ملک میں پاکستانیوں کے وسائل کے حوالے سے جو ہسپتال بنے ہیں، وہ عام آدمی اور کمزور طبقے کی پہنچ سے دور ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے کہ میاں نواز شریف، آصف علی زرداری اور شہباز شریف جہاں سے علاج کرواتے ہیں ، راجن پور کے عام دیہات سے آنے والے کو بھی وہی طبی 
سہولیات حاصل ہوں ، لیکن ایسا نہیں ہے۔
نجی شعبے کے اسپتالو ں کے اخراجات بہت زیادہ ہیں، کاش انہیں رفاعی ادارے کی حیثیت سے چلایا جائے تو نمایاں خدمات سر انجام دی جا سکتی ہیں لیکن کچھ افراد ہیں کہ ان اسپتا لوں کو کمائی کا ذریعہ بنا کر شعبہ طب میں خدمت کرنے کی بجائے، کاروباری شعبہ قرار دے کر اپنے سرمائے ، وسائل اور آمدنی کو میں اضافہ کیا ہے۔ ہاں کچھ ہسپتال ضرور نظر آتے ہیں کہ واقعی انسانی خدمت کو اولین ترجیح دیتے ہیں ، اخراجات نہ ہونے کے برابر کر کے عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ملک کے اندر طبی سہولیات کے حوالے سے کسی قسم کی کمی نہیں کہ ہمارے امیر طبقہ پاکستان سے باہر جا کر علاج کروائے۔انہیں اپنے اداروں پر اعتماد کرنا چاہیے۔ کچھ ہسپتال تو ایسے ہیں جو پرچی تک کی فیس نہیں لیتے اور کچھ تو ایسے ہیں جو پرچی سے لے کر ہر اگلے مرحلے پر پہنچنے سے پہلے مریض کو بل تھمادیتے ہیں کہ پہلے رقم جمع کروائیں ، پھر علاج آگے چلے گا۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ کچھ ایسے بھی واقعات ہوئے ہیں کہ بل کی ادائیگی کے بغیر مریض کی موت کی صورت میں لاش ورثا کے حوالے نہیں کی گئی۔ ان حالات ہمیں اپنے رویوں کو تبدیل کرنا ہوگا۔میری تجویز ہے کہ قانون سازی کی جائے کہ ہسپتال کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ مریض کو بچانے کی کوشش کرے، لیکن خدانخواستہ اگر مریض مر گیا تو بقیہ بل کی ادائیگی ہسپتال خودکرے گا۔اس سے پتہ چلے گا کہ ہسپتالوں کو کاروبار کی بجائے، خدمت کا ذریعہ کون کون بناتا ہے؟ نجی شعبہ میں ہسپتال بنانے والے کمائی کی بجائے اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھیں،سرمایہ بنانے کے بجائے، آخرت کو سنوارنے کی فکر کریں تو غریب آدمی بھی اچھے ہسپتالوں میں آنے سے جھجک محسوس نہیں کرے گا۔ وزیر اعظم میاں شہباز شریف،جب وزیر اعلیٰ پنجاب تھے تو انہوں نے لاہورمیں پی کے ایل آئی کے نام سے گردے اور لیور ٹرانسپلانٹ کا ہسپتال بنایا،یہ ہسپتال سہولیات کے اعتبار سے قابل تعریف ہے۔اسی معیار کے مزید ہسپتال بھی بننے چاہیئں۔نجی شعبے میںایسے ہسپتال بھی ہیں کہ جو پرچی سے لے کر آخری مراحل تک کچھ وصول نہیں کرتے، وہاں کیش کاو ¿نٹر بھی نہیں ہے۔ لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ کچھ ایسے ٹرسٹ ہسپتال ہیں جو بنے تو فلاحی ادارے کے طور پر ہیں لیکن انہیں پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں بنا لیا گیا ہے، خاندان ان پر پلتے ہیں۔ان رویوں پر ہمیں نظر ثانی کرنی چاہیے۔ کبھی وقت ہوتا تھا کہ لاہور کی آبادی کم تھی اور اس وقت طبی سہولیات اتنی نہ تھیں لیکن ماحول اورفضا صاف تھی۔ فضائی آلودگی نہیں تھی، جو آج ہے۔ سموگ کا کسی نے نام تک نہیں سنا تھا۔ گاڑیوں کی وجہ سے آلودگی پھیلی ،اب لوگوں میںایسی بیماریاں ا ٓگئی ہیں جو ہم نے اپنی زندگی میں نہیں سنی تھیں۔اب پہلے والے حالات نہیں رہے، ہم نے اپنی زندگی میں اتنی تبدیلیاں دیکھ لی ہیں، تو یقینا آنے والی نسلوں کے لیے یہ حالات مزید خراب ہوں گے، اس لیے ہمیں ہر طرح کے حالات کو بہتر کرنا ہوگا، طبی سہولیات پر توجہ دینا ہو گی۔ جو صاحب ثروت لوگ ہیں انہیں چاہیے کہ وہ مزید اچھے ہسپتال بنائیں ، غریب لوگوں کے لئے بھی ان سہولتوں کے دروازے کھولیں جو امیروں کے لئے ہیں،وصولیاں کرنے کی بجائے خدمت کی طرف توجہ دیں۔ مجھے امید ہے کہ ہم بحیثیت قوم اچھے لفظوں میں یاد کیے جائیں گے۔۔۔END۔۔۔