تعلیمی اداروں میں منشیات کا پھیلاؤ

رفیع احمد 

   کسی بھی ملک کی تعمیر وترقی اور سلامتی کا تعلق اس کے تعلیمی اداروں سے منسلک ہوتا ہے۔ یہ ادارے اپنے طلبہ کو معیاری،جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ کردار سازی،تعمیر شخصیت اور سب سے بڑھ کر ان میں وطن سے محبت کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ بد قسمتی سے ہم نے اپنے تعلیمی اداروں سے عظیم مقاصد حاصل کرنے کا کام نہیں کیا، بلکہ تعلیمی اداروں کو تباہ برباد کر نے کا گھٹیا کام کیا، معاشرے کی تمام برائیاں یہاں جنم لے رہی ہیں۔ 
   دور حاضر کی سب سے بڑی برائی منشیات ہے، اب ہمارے تعلیمی ادارے بھی اس سے محفوظ نہیں رہے ہے، ایک سازش کے تحت منشیات کا میٹھا زہر نسل نو کی رگوں میں پہنچانے کا کام کیا گیا ہے تاکہ ہمارا پیارا پاکستان کمزور سے کمزور ہو  سکے اس کام  میں ہمارا دشمن ہمیں کامیاب نظر آتا ہے۔ منشیات کے استعمال سے ہمارے 13 ،سال سے لیکر 25 ،سال کے نوجوان متاثر ہو رہے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے کچھ تعلیمی اداروں میں 15 سے 20، فیصد طلبا کسی نہ کسی منشیات کا استعمال کر رہے ہیں ان میں ہماری طالبات بھی شامل ہیں۔یہ منشیات نسوار،سگریٹ،ویپ یعنی الیکٹرانک سگریٹ،چرس، کرسٹل آیس اور ایکسٹیسی ٹیبلیٹ کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ حکومتوں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے طلبہ و طالبات میں مایوسی،بے چینی اپنے مستقبل کی فکر کی وجہ سے پین کلر ٹیبلیٹ کا استعمال کر کے ذہنی و جسمانی کمزور ہوتے جارہے ہیں۔سال نو کے شروع میں سندھ میں اربوں روپے کی 36،لاکھ گولیوں کو اپنے قبضے میں لیا ہے یہ بات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ وطن عزیز میں کتنی بڑی تعداد میں یہ ٹیبلیٹ کی سپلائی کی جاتی ہے،یہ ٹیبلیٹ کرسٹل آیس اور کوکین کی تیاری میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس آئے روز ان منشیات فروشوں کو گرفتار کرتی ہے جو یہ ٹیبلیٹ تعلیمی اداروں میں پہنچانے کا کام کر تے ہیں لیکن اس کے باوجود اربوں روپے کی خرید وفروخت ہو جاتی ہے اگر ہماری یہ فورس ڈرگ اسمگلر کو نہ پکڑے تو نہ جانے ہمارے تعلیمی اداروں کا کیا حال ہو جائے۔
   حکومت سندھ کے محکمہ تعلیم نے اپنے تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کے لیے زیروٹالرنس پالیسی بنانے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت وہ طلبہ کی میڈیکل اسکریننگ یعنی رینڈم ڈرگس ٹیسٹ کرے گی اب دیکھا یہ جائے گا کہ وہ کس طرح سندھ کے قریباً 350 ،سرکاری کالجز کے ساڑھے تین لاکھ طلبہ کے ٹیسٹ کو ممکن بناتی ہے صرف کراچی شہر میں قریباً 155 ،کالجز ہیں۔سچ بات تو یہ ہے کہ حکومت میں یہ صلاحیت نظر نہیں آتی ہے کہ وہ چند ہزار طلبہ کابھی میڈکل ٹیسٹ مکمل کر لے،البتہ حال ہی میں تعینات ہونے والے ناظم کالجز سندھ پروفیسر نوید رب جو کہ جواں ہمت اور تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی منشیات سے عرصہ دراز سے واقف ہیں وہ اپنا بھرپور قومی کردار ادا کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔
   حکومت اگر تعلیمی اداروں میں منشیات کو روکنا چاہیے تو وہ ان کی حالت زار کو بہتر سے بہتر کرے، تعلیمی بجٹ کو دگنا کرے،میرٹ پر اساتذہ و عملے کی بھرتی کرے،طلبہ کو کھیلوں کی سہولیات فراہم کرے، جدید تعلیم کے بعد روزگار کی ضمانت دے،طلبہ یونین کے الیکشن کا فی الفور اعلان کرے،پرنسپل حضرات اساتذہ کی مدد سے انسداد منشیات کے زیادہ سے زیادہ پروگرام جس میں مقابلہ تقاریر ،مضمون نویسی،ڈرامے، ریلیاں،لیکچرز وغیرہ کا لازمی اہتمام کرے۔ 
    منشیات کے اس طوفان کو ہم نے اپنے تعلیمی اداروں میں نہیں روکا تو صرف چند سالوں میں نہایت خوفناک نتائج سامنے آئیں گے ہم سب اس کے قومی مجرم قرار دیے جائیں گے۔