منشیات کی منڈی اور ریاستی ادارے!

 رفیع احمد 
   دنیا بھر میں منشیات فروشوں کا لمبا جال پھیلا ہوا ہے خاص کر پاکستان میں ان کے ہاتھ لمبے ہی نہیں بلکہ اس جال کی جڑیں بھی مضبوط کررہے ہیں۔ سن 1980 سے پہلے ہم خطرناک ترین ہیروئن نامی نشے سے ناواقف تھے لیکن آج یہ نشہ ہر عام و خاص کی  پہنچ میں ہے۔ منشیات فروشوں کے منظم نیٹ ورک کی وجہ سے نہ صرف ہیروئن بلکہ چرس، افیون، کرسٹل آیس، ویڈ( weed)، کوکین، الیکٹرانک سگریٹ، شراب، نشہ آور گولیاں اور ادویات استعمال کرنے والوں کی تعداد کروڑوں میں پہنچ گئی ہے۔آج سے 46،سال قبل پاکستان میں جڑی بوٹیوں سے شروع ہونے  والی روایتی منشیات اب خوف ناک اور جان لیوا صورت اختیار کرچکی ہے، دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہوگا، جہاں اتنی تیزی سے منشیات نے اپنی جگہ بنالی ہو۔  پاکستان میں منشیات عام ہونے کی کافی وجوہات  میں شامل ہیں،کمزور حکومتیں، غیر جمہوری فیصلے، کرپشن، میرٹ کا قتل عام،بے روزگاری، غربت،  مہنگائی، رہائشی مسائل اور سب سے بڑھ کر اسلامی تعلیمات سے دوری وغیرہ ہیں۔ گورنمنٹ کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ڈھائی کروڑ سے زائد بچے اسکول سے باہر ہیں، ان میں سے دو کروڑ بچوں نے کبھی اسکول کا راستہ تک نہیں دیکھا، 86، لاکھ بچے محنت مزدوری کررہے ہیں، 44، فی صد آبادی خط غربت سے نیچے والی زندگی میں سسک رہی ہے۔ جبکہ حکمرانوں کی 30، ارب روپے سے زائد کی جائدادیں صرف دبئی میں ہیں، 22، ہزار بیوروکریٹس نے دوہری شہریت حاصل کر رکھی ہے۔ پاکستان میں ہر سال 45،لاکھ افراد ورک فورس میں آجاتے ہیں, صرف 10، لاکھ افراد کو روزگار ملتا ہے یعنی ہر سال 35، لاکھ افراد بے روزگار ہو رہے ہیں، مستقبل میں ہمارے نوجوانوں کے پاس نہ شعور رہے گا، نہ ہنر اور نہ ہی اخلاقی اقدار۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے وطن کو منشیات کی منڈی نہ بننے دیں۔
 ہائے رے بد نصیبی!سالانہ 560، ارب روپے کی منشیات ہم استعمال کررہے ہیں اور اس طرح ہمارا بھاری سرمایہ بیرون ملک منتقل ہو جاتا ہے،صرف کراچی شہر میں سالانہ 42، ٹن چرس استعمال ہوتی ہے یعنی دنیا میں چرس استعمال کرنے والا دوسرا بڑا شہر ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ دنیا کی سرفہرست 350، جامعات  میں پاکستان کی کوئی ایک یونیورسٹی  اس لسٹ  میں شامل نہیں ہے۔ 
      ڈرگز مافیا ہماری نسل نو پر تیزی سے حملہ آور ہوچکی ہے۔ ایک طرف پاکستان وہ خوش نصیب ملک ہے جس کی 64، فی صد آبادی نو جوانوں پر مشتمل ہے لیکن قسمت کی ستم ظریفی تو دیکھیے کہ مستقبل  کا یہ معمار  طبقہ سب سے زیادہ منشیات سے متاثر ہو رہا ہے،ان منشیات فروشوں نے ہمارے تعلیمی اداروں کو ٹارگٹ بنا لیا ہے، نشہ صرف جسم کو ہی نہیں ختم کرتا  بلکہ روح کو بھی دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے ۔ اس طرح ہم ایک کھوکھلی اور کمزور نسل کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ منشیات کے عادی نوجوانوں میں وبائی مرض"ایڈز"  تیزی سے پھیل رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نشئی ،ایک دوسرے کی سرنچ کو بار بار استعمال کرتے ہیں۔ یاد رہے ایڈز مہلک اور لاعلاج بیماری ہے، پاکستان میں قریباً   10، لاکھ افراد انجیکشن کے ذریعے منشیات کا استعمال کرتے ہیں ان میں 25، فی صد لڑکیاں اور خواتین بھی شامل ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ منشیات فروشی میں عورتوں کی بہت بڑی تعداد شامل ہو چکی ہے۔
    منشیات کی روک تھام کی سب سے بڑی اور زیادہ ذمہ داری حکومت  کی ہے، ریاست کو چاہیے کہ وہ سرحدی اور آبی گزر گاہوں سے منشیات کی ترسیل کو 100، فی صد روکے، سرکاری ایجنسیوں میں سے منشیات فروش اہلکاروں کو حراست میں لیکر عبرت ناک سزائیں دے، ان کے اثاثوں کی چھان پھٹک کی جائے۔حکومت اینٹی نارکوٹکس فورس(ایاین ایف) کو مزید مضبوط کرے، انہیں وسائل کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی بھی دے، ان کی افرادی قوت کو بڑھائے۔پولیس اور دیگر انسدادِ منشیات ایجنسیوں سے ایف آئی آر کے اختیارات ختم کر کے صرف اے این ایف کو سونپ دیئے جانے سے بالخصوص صوبائی پولیس و ایکسائز پولیس کی منشیات فروشوں سے جوڑ توڑ ختم ہو جائے گی، اس طرح یہ ایجنسیاں منشیات اور منشیات فروشوں کو پکڑ کر اے این ایف کے حوالے کرے گی۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت صرف منشیات کے خلاف زبانی دعوے نہ کرے بلکہ عملی اقدامات کرے، ڈانس پارٹیوں پر پابندی عائد کرے، ویپ کی شاپس اور شیشہ گھروں کو بند کیا جائے اس کی جگہ تعلیمی  سرگرمیوں کے لیے جگہیں مختص کی جائیں۔تعلیمی ادارے  انسدادِ منشیات کے بھرپور پروگرامز کا انعقاد کریں، طلبہ یونین کو بحال کیا جائے۔ حکومت منشیات اور منشیات فروشوں کی صرف مذمّت نہ کرے بلکہ ان کی مرمت بھی کرے۔۔۔۔۔