حماس کے ہتھیاروں سمیت کچھ اہم نکات باقی ہیں،مصری سکیورٹی ذرائع، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسرائیل پر غزہ میں جاری نسل کشی براہ راست نشر کرنے کا الزام
قاہرہ؍لند ن (آئی این پی )غزہ میں جنگ بندی کے لیے قاہرہ میں جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیل پر غزہ میں جاری نسل کشی براہ راست نشر کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ برطانوی خبر رساں اداے کے مطابق مصر کے 2سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے قاہرہ میں جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت دیکھنے میں آ ئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ محصور علاقے میں طویل مدتی جنگ بندی پر اتفاق رائے پایا گیا ہے، تاہم حماس کے ہتھیاروں سمیت کچھ اہم نکات باقی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جاری مذاکرات میں مصر اور اسرائیل کے وفود بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی زیادہ تر آبادی کو زبردستی بے گھر کیا اور جان بوجھ کر انسانوں کی تباہی کے حالات پیدا کرنے کے ساتھ اس نے دنیا کو براہ راست نسل کشی کا سامع بنا دیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکرٹری جنرل ایگنس کیلامارڈ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ریاستیں بے اختیار نظر آرہی ہیں، اسرائیل نے ہزاروں فلسطینیوں کو قتل کیا، تمام کثیر نسلی خاندانوں کا صفایا کر دیا، گھروں، معاش، ہسپتالوں اور سکولوں کو تباہ کر دیا۔ اسرائیل کے اقدامات نے19لاکھ فلسطینیوں کو جبری طور پر بے گھر کیا جو غزہ کی آبادی کا تقریبا 90فیصد ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل بھوک اور پیاس کو عام شہریوں کے خلاف منظم جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے جو بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔