امریکا اور ایران جنگ بندی کیلئے قلیل مدتی معاہدے پر غور

بق دونوں ممالک کے درمیان کئی متنازع معاملات تاحال حل طلب ہیں
واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا اور ایران جنگ بندی کے ایک جزوی معاہدے پر غور کر رہے ہیں جبکہ اس کا ابتدائی فریم ورک بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کئی متنازع معاملات تاحال حل طلب ہیں، اسی لیے یہ منصوبہ جامع امن معاہدے کے بجائے ایک قلیل مدتی مفاہمتی یادداشت کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق یہ مجوزہ منصوبہ ایک عبوری اقدام تصور کیا جا رہا ہے، جس سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جزوی معاہدہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجوزہ فریم ورک تین مراحل پر مشتمل ہوگا۔ پہلے مرحلے میں باضابطہ طور پر جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا جائے گا، دوسرے مرحلے میں آبنائے ہرمز کے بحران کے حل پر توجہ دی جائے گی جبکہ تیسرے مرحلے میں 30 روزہ مذاکراتی دور شروع ہوگا جس میں وسیع تر اور جامع معاہدے کیلئے بات چیت کی جائے گی۔دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ ایک ہفتے کے اندر طے پا سکتا ہے۔