اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہونے سے متعلق درخواست داخل دفتر کرتے ہوئے جیل حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کردی۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے ریاست علی آزاد سمیت دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت کو بتایا گیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکالت ناموں پر دستخط ہوگئے ہیں، جس پر عدالت نے درخواست نمٹا دی۔جج طاہر عباس سپرا نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو وکالت ناموں سے متعلق باقاعدہ قواعد بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر وکلا کے ساتھ یہ معاملہ پیش آرہا ہے تو عام سائلین کے وکالت ناموں کا کیا ہوتا ہوگا۔اس موقع پر ایڈووکیٹ زینب نے عدالت کو بتایا کہ ہائیکورٹ کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ ایس او پیز بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیل حکام وکالت نامے کے عمل کو سزا نہ بنائیں۔
جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ ماضی میں لوگ کبھی بخشی خانے اور کبھی گاڑی میں وکالت ناموں پر دستخط کرواتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کا پہلا راستہ وکالت نامے پر دستخط ہونے سے شروع ہوتا ہے۔بعد ازاں عدالت نے جیل حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکالت ناموں سے متعلق درخواست داخل دفتر کردی۔