گورنر راج کی دھمکیوں سے پیچھے نہیں ہٹوں گا بند کمروں کے فیصلوں کو نہیں مانتے ‘ تین افراد ملک میں نفرتیں بڑھا رہے ہیں سہیل آفریدی

خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حالات خراب ہیں‘خیبرپختونخوا کو جلد بکتر بند گاڑیاں فراہم کی جائیں، جنازے خیبرپختونخوا اٹھا رہا ہے، صوبہ زخمی ہے جبکہ وفاق جہاز لے رہا ہے
دہشت گردی کی موجودہ لہر میں جو بھی شہید ہوگا اسے شہید پیکیج دیا جائے گا‘موجودہ پالیسی تبدیل کی جائے، ہماری حکمت عملی پر عمل ہو تو 100 دن میں امن قائم ہوسکتا ہے:پریس کانفرنس‘اجلاس میں گفتگو
ڈیرہ اسماعیل خان‘    پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے  خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حالات خراب ہیں، بند کمروں کے فیصلوں کو نہیں مانتے۔علی امین گنڈاپور کی رہائش گاہ الامین ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے درازندہ میں گزشتہ روز ہونے والے دھماکے کی مذمت کی۔اْنہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف جو بھی اسلحہ اٹھاتا ہے وہ دہشت گرد ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف عوام ہی نہیں بلکہ سکیورٹی فورسز کے جوان بھی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے قیامِ امن کے لیے پولیس کو 35 ارب روپے کے فنڈز فراہم کیے ہیں اور حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے، خیبرپختونخوا کے عوام کو اعتماد میں لیے بغیر صوبے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمیں امن سے پیار ہے اور احساس ہے کہ ہمارے بچے، خواتین اور جوان شہید ہو رہے ہیں، دہشت گردی کی موجودہ لہر میں جو بھی شہید ہوگا اسے شہید پیکیج دیا جائے گا۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حالات خراب ہیں، جو حکومت کے بس کی بات نہیں، ہم بند کمروں کے فیصلوں کو نہیں مانتے اور ان کے بقول تین افراد ملک میں نفرتیں بڑھا رہے ہیں۔سہیل آفریدی نے وفاق سے مطالبہ ہے کہ خیبرپختونخوا کو جلد بکتر بند گاڑیاں فراہم کی جائیں، جنازے خیبرپختونخوا اٹھا رہا ہے، صوبہ زخمی ہے جبکہ وفاق جہاز لے رہا ہے۔دریں اثناء زیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں امن و امان سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا  خیبرپختونخوا کے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر نئی پالیسی تشکیل دی جائے‘ صوبائی حکومت نے امن و امان کی بہتری کے لیے اپنی استعداد اور وسائل سے بڑھ کر اقدامات کیے ہیں، تاہم ان کے مطابق صرف پولیس کو وسائل فراہم کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ وفاقی سطح پر پالیسی میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی تجویز کردہ نئی حکمت عملی پر عمل درآمد کیا جائے تو 100 دن میں خیبرپختونخوا میں امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت، انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر نئی پالیسی بنائی جائے