امن جرگہ دہشتگردی ختم کرنے کیلئے بند کمروں سے نکل کر فیصلے کرنا ہوں گے سہیل آفریدی

جب بم پھٹتا ہے تو یہ نہیں دیکھتا مرنے والا پی ٹی آئی کا ہے یا پیپلز پارٹی کا ہے ، دہشتگردی کے خلاف طویل المدتی پالیسی اپنانی ہوگی:وزیراعلی خیبرپختونخوا
ہمیں ماضی کو بھلانا ہوگا، مستقبل کا سوچنا ہو گا جب تک صوبائی حکومت، وفاق اور سکیورٹی ادارے ساتھ نہیں بیٹھتے امن اور ترقی ممکن نہیں:گورنر فیصل کریم کنڈی
پشاور(آئی این پی )وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہماری کوشش امن کیلئے ہے،جنگ آخری آپشن ہونا چاہیے، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے بند کمروں سے نکل کر سیاستدانوں کے ساتھ مل کر فیصلے کرنا ہوں گے، جب بم پھٹتا ہے تو یہ نہیں دیکھتا کہ مرنے والا پی ٹی آئی کا ہے یا پیپلز پارٹی کا ،اس لئے  وقت آگیا ہے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ پالیسی اپنائی جائے،دہشت گردی کیخلاف عوام، سیاستدان اور سکیورٹی فورسز سب نے قربانیاں دی ہیں، سب نے قربانیاں دی تو 2018 میں امن قائم ہوا تھا، ابھی ایک دفعہ پھر دہشتگردی سر اٹھا رہی ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں ناے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صوبے میں حالیہ دہشت گردی میں اضافے کے پیشِ نظر امن و امان کی صورتحال پر غور کرنے کیلئے صوبائی اسمبلی میں سپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت  منعقدہ  امن جرگے  سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جرگے کے انعقاد کا مقصد صوبے میں امن بحالی اور عسکریت پسندی کے خاتمے کی حکمتِ عملیوں پر غور کرنا  تھا    امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی    نے کہا کہ صوبہ بھر کو ایک ہال میں جمع کرنے پر اسپیکر کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، سمجھتا ہوں کہ ہمیں ماضی کو بھلانا ہوگا، مستقبل کا سوچنا ہو گا۔ فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی ہے یا بدقسمتی کہ ہمارے پڑوس میں افغانستان ہے، ہمارے تمام شعبہ زندگی کے لوگوں نے شہادتیں پیش کیں، جب تک صوبائی حکومت، وفاق اور سیکیورٹی ادارے ساتھ نہیں بیٹھتے امن اور ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نوجوانوں کو درست سمت پر ڈالنا ہوگا، ہم نے وفاق کے ساتھ بات کرنے کے لیے اپنی سیاسی جماعتوں کو سائیڈ پر کرنا ہو گا، ہماری ترجیح ہمارا صوبہ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنا حق حاصل کرنے کے لیے وفاق کے ساتھ دلائل سے بات کرنا ہوگی، ہمیں اپنی سمت کو ٹھیک کرنا ہوگا، اس وقت تمام سیاسی جماعتیں موجود ہیں۔  گورنر نے کہا کہ صوبے کے حق حاصل کرنے کیلئے  صوبائی حکومت کے ساتھ ہیں، اسپیکر صاحب کمیٹی بنائیں، ہر جماعت کا ایک نمائندہ لیں۔