لاہور کے میو ہسپتال کے چلڈرن وارڈ سے 2 روزہ بچی کے اغوا کا ہے، جو نہ صرف دل دہلا دینے والا ہے بلکہ پولیس کے لیے بھی بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
متاثرہ بچی کا تعلق مریدکے کے رہائشی قاسم سے ہے۔چار دن قبل بچی کو ہسپتال کی نرسری سے اغوا کیا گیا۔اغوا کار ایک نقاب پوش خاتون تھی، جس نے بچی کو لے کر گوالمنڈی کی طرف فرار ہونے کی کوشش کی۔
پولیس کی کارروائی:
پولیس نے فوری طور پر ہسپتال اور اردگرد کے سی سی ٹی وی کیمروں کا ڈیٹا حاصل کیا۔نرسری وارڈ کے اسٹاف، ہسپتال سیکورٹی اہلکاروں اور متاثرہ خاندان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔
اغوا کی تحقیقات کے مختلف پہلوؤں پر کام جاری ہے، تاہم چار دن گزرنے کے باوجود خاتون اغوا کار کا سراغ نہیں ملا۔
قانونی کارروائی:
گوالمنڈی تھانے میں متاثرہ والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔پولیس نے اغوا کار خاتون کو گرفتار کرنے اور بچی کو بازیاب کروانے کے لیے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا ہے۔
موجودہ صورتحال:
بچی کی موجودہ حالت یا خاتون اغوا کار کی شناخت کے بارے میں تاحال کوئی حتمی اطلاع نہیں۔پولیس مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے اغوا کار کا سراغ لگانے کی کوشش جاری ہے۔