نیویارک: اقوام متحدہ نے ایران کے جوہری پروگرام کے باعث اسلحہ کی خرید و فروخت سمیت سخت پابندیاں دوبارہ عائد کر دی ہیں۔
یہ فیصلہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے مؤقف کے بعد سامنے آیا ہے، جنہوں نے ایران پر 2015 کے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ ان ممالک نے سلامتی کونسل میں کہا کہ ایران معاہدے کی شرائط پر عمل نہیں کر رہا، تاہم ایران نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد ایٹمی ہتھیار بنانا نہیں ہے۔پابندیوں کے تحت ایران پر یورینیم افزودگی، بیلسٹک میزائل سرگرمیوں اور حساس جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی پر پابندی ہوگی۔ درجنوں ایرانی شہریوں اور اداروں کے اثاثے بھی منجمد کر دیے گئے ہیں اور ان پر سفری پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ایران نے اس اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران ایٹمی عدم پھیلاؤ معاہدے (NPT) سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔روس نے ان پابندیوں کو "غیر قانونی" قرار دیا، جبکہ اسرائیل نے ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو "ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ایران" کو روکنا ہوگا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق سفارتکاری اب بھی ممکن ہے لیکن ایران کو نیک نیتی سے براہ راست مذاکرات کرنا ہوں گے۔ایران کی معیشت پہلے ہی امریکی پابندیوں سے متاثر ہے۔ نئی پابندیوں کے بعد ایرانی کرنسی ریال کی قدر ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں 11 لاکھ 23 ہزار ریال تک جا گری ہے۔