ایران کے خلاف امریکہ کا سخت اقدام: نئی پابندیاں اور فوجی دھمکی

ایران کے خلاف امریکہ کا سخت اقدام: نئی پابندیاں اور فوجی دھمکی

امریکی محکمہ خارجہ نے ایران کے جوہری پروگرام سے وابستہ پانچ اداروں اور ایک شخص پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

یہ پابندیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کے تحت ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کا حصہ ہیں تاکہ ایران کو جوہری معاہدے کی شرائط پر رضا مند کیا جا سکے۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، ان پابندیوں میں شامل اداروں نے ایران کے ایٹمی پروگرام میں معاونت فراہم کی ہے، اور امریکا ایران کے جوہری عزائم کو فروغ دینے والے تمام عناصر کا احتساب جاری رکھے گا۔ اس اقدام کا مقصد ایران پر مزید اقتصادی دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرے۔یہ پابندیاں ایسے وقت میں لگائی گئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات صرف دو دن بعد ہونے والے ہیں۔

 ان مذاکرات کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو مزید روکنا اور عالمی برادری کی تشویش کو کم کرنا ہے۔دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کو بند نہیں کرتا تو امریکا فوجی کارروائی کا راستہ بھی اختیار کر سکتا ہے، اور اسرائیل بھی اس کارروائی میں شامل ہوگا۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔