ویب ڈیسک: دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر پانی کی آمد میں کمی کا سلسلہ جاری ہے تاہم کچے کے علاقے اب بھی زیر آب ہیں اور مختلف امراض پھوٹ پڑے ہیں۔
نارووال اور شکر گڑھ کے دیہات میں بھی زندگی معمول پر نہیں آسکی۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں پانی کے بہاؤ میں 25 ہزار کیوسک کمی ہوئی جس کے بعد بہاؤ 3 لاکھ 87 ہزار کیوسک رہ گیا۔ حکام کے مطابق پانی کی کمی کے باوجود بیراج پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔جامشورو کے کچے کے علاقوں میں پانی تاحال کھڑا ہے جس سے دیہات متاثر اور بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ دوسری جانب ملتان کی تحصیل جلال پور میں نوراجہ بھٹہ بند کی مرمت مکمل کر لی گئی ہے۔ سیلاب سے پیدا ہونے والا 1250 فٹ کا شگاف پُر کر دیا گیا اور حفاظتی بند کو مزید 3450 فٹ تک مضبوط کیا گیا ہے۔
پنجاب حکومت کے مطابق حافظ والا اور نہری علاقوں میں پڑنے والے شگاف بھی بھر دیے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس کام پر وزیر آبپاشی اور ٹیم کو شاباش دی۔ادھر نارووال کی تحصیل شکر گڑھ میں دریائے راوی کے سیلاب کو ایک ماہ گزر چکا مگر دو درجن سے زائد دیہات اب بھی متاثر ہیں۔ ایم 5 موٹروے بھی 17 ویں روز بند ہے اور حکام کے مطابق اس کی بحالی کا انحصار اردگرد پانی کی سطح میں کمی پر ہے۔