دریائے سندھ میں کوٹری بیراج کے پانی کی آمد میں اضافہ، کئی پل اور دیہات متاثر

دریائے سندھ میں کوٹری بیراج کے پانی کی آمد میں اضافہ، کئی پل اور دیہات متاثر

 دریائے سندھ کی صورتحال
کوٹری بیراج پر پانی کی آمد میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔24 گھنٹے میں 12 ہزار کیوسک کے اضافے کے بعد پانی کا بہاؤ بڑھ کر 4 لاکھ 20 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا۔سیلابی صورتحال کے باعث ٹھٹھہ میں کئی کچے کے دیہات زیرِ آب آگئے۔فصلوں پر اثرات: چاول، کپاس، کیلے، پپیتے اور دیگر فصلیں شدید متاثر۔
پلوں اور زمینی رابطے کی صورتحال
اوباڑو کے قریب ور والو اسٹاپ کے مقام پر ڈہر کینال سے گزرنے والی پل اچانک گر گئی، جس سے متعدد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔طلبہ سکول نہیں جا سکے۔مقامی افراد نے اعلیٰ حکام سے فوری پل کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
 حفاظتی بند اور مکینوں کی منتقلی
سیلابی صورتحال کے باعث مکین محفوظ مقامات اور حفاظتی بندوں پر منتقل کیے جا رہے ہیں۔جام شورو میں انڑ پور، یونین کونسل شاہ اویس اور کچے کے دیہات میں پانی کا دباؤ بڑھ گیا۔نواب شاہ میں سکرنڈ مڈ منگلی حفاظتی بند پر سیلابی صورتحال برقرار، دیہات پانی میں گھِر گئے۔ضلع سجاول میں دریائے سندھ کے حفاظتی پشتوں پر سیلابی صورت حال برقرار، خیمہ بستیاں قائم۔
 دریائے چناب اور ستلج کی صورتحال
جلال پور پیر والا میں سیلابی پانی کم نہ ہو سکا، درجنوں بستیاں زیرِ آب۔اُچ شریف روڈ پر متاثرین گھر واپسی کے لیے پانی کے اترنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
 مرمت اور بنیادی ڈھانچے کی صورتحال
نوراجہ بھٹہ بند کے شگاف کی مرمت جاری۔ایم 5 موٹر وے ملتان سے جھانگڑا انٹرچینج تک 14ویں روز بھی بند۔سیلاب سے متاثرہ سوئی گیس پائپ لائن کی مرمت جاری، رحیم یار خان، بہاول نگر اور بہاول پور کے وسیع رقبے متاثر۔نقصان کا سروے بھی شروع کر دیا گیا۔