شرعی جواز سے ہٹ کر اس مسئلے کو برتنا ہی تشدد کے تسلسل اور مصائب کے بڑھنے کا باعث بنا ہے
سعودی عرب انسانی پکار پر لبیک کہنے اور مدد اور تعاون کا ہاتھ بڑھانے میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے
ایٹمی پھیلائو اور خطے میں اسلحے کی دوڑ روکنے کے نظام کی پابندی ناگزیر ہے: شہزادہ فیصل بن فرحان
نیویارک (آئی این پی )سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے فلسطین کے مسئلے پر مستقل اور واضح موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آچکا ہے کہ اس مسئلے کا منصفانہ اور دیرپا حل تلاش کیا جائے ، بین الاقوامی قوانین اور شرعی جواز سے ہٹ کر اس مسئلے کو برتنا ہی تشدد کے تسلسل اور مصائب کے بڑھنے کا باعث بنا ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس میں سعودی عرب کی نمائندگی کرتے ہوئے خطاب میں کیا ۔ سعودی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ سعودی عرب کو فخر ہے کہ وہ اقوام متحدہ کا بانی رکن ہے اور وہ میثاقِ اقوام متحدہ کے اصولوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرتا ہے تاکہ بین الاقوامی قانون کے احترام کو مستحکم کیا جا سکے اور عالمی امن و سلامتی کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ سعودی عرب انسانی پکار پر لبیک کہنے اور مدد اور تعاون کا ہاتھ بڑھانے میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔ سعودی عرب اب تک 141 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی امداد فراہم کرچکا ہے جس سے 174 ممالک نے استفادہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین اور شرعی جواز سے ہٹ کر اس مسئلے کو برتنا ہی تشدد کے تسلسل اور مصائب کے بڑھنے کا باعث بنا ہے۔سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کی اسرائیلی جارحیت اور خلاف ورزیوں کو روکنے میں ناکامی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر امن و استحکام کو متزلزل کرے گی اور سنگین نتائج کی راہ ہموار کرے گی