ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹوئٹ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
اسلام آباد کی عدالت نے ہادی علی چٹھہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، جس کے بعد انہیں کمرہ عدالت کے باہر سے گرفتار کر لیا گیا۔ اس سلسلے میں ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد افضل مجوکہ نے سماعت کی، جہاں انہوں نے ہادی علی چٹھہ کے ضمانتی مچلکے منسوخ کرنے کا حکم دیا۔ جج کا کہنا تھا کہ ہادی علی چٹھہ نے مچلکے جمع نہیں کروائے ہیں، اس لیے ان کی ضمانت منسوخ کی جا رہی ہے۔عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ ہادی علی چٹھہ کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور کل عدالت میں پیش کیا جائے۔ اس دوران، ہادی علی چٹھہ کچھ دیر بعد عدالت کے سامنے پہنچے، اور اس موقع پر جج افضل مجوکہ کا پیغام دیا کہ آرڈر کا اعلان کیا جا چکا ہے اور ہادی علی چٹھہ کو کل عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔یہ کیس حساس نوعیت کا ہے اور عدالت کی جانب سے گرفتاری اور ضمانتی مچلکوں کے منسوخی کا فیصلہ قانونی کارروائی کا حصہ ہے، جس میں ہادی علی چٹھہ کو پیش رفت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔