متنازع ٹوئٹ کیس: ہادی علی چٹھہ اور پراسیکیوٹر کے درمیان تلخ کلامی

متنازع ٹوئٹ کیس: ہادی علی چٹھہ اور پراسیکیوٹر کے درمیان تلخ کلامی

اسلام آباد: عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف مقدمہ کی سماعت کے دوران اسٹیٹ کونسل مقرر کردی، اس سے قبل مقرر کردہ کونسل پر اعتراضات کے بعد نئی کونسل تعینات کی گئی۔

سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کی عدالت میں ہوئی۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے، جہاں ہادی علی چٹھہ نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔اس دوران، پراسیکیوٹر اور ہادی علی چٹھہ کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، اور ہادی علی چٹھہ نے عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ ان کے خلاف فرد جرم کی اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التواء ہے اور عدالت پہلے ہی سزا کا فیصلہ دے چکی ہے۔

جج محمد افضل مجوکہ نے سماعت کا آڈر لکھوانا شروع کیا اور توہین عدالت کے جملہ سے متعلق استفسار پر، جج نے یہ جملہ آڈر سے نکال دیا۔جج نے ریمارکس دیے کہ جہاں قانون کا تعلق ہے، وہاں قانون کے مطابق عمل کیا جائے گا۔عدالت نے کیس کی سماعت 27 نومبر تک ملتوی کردی۔ یہ کیس سیاسی وابستگی اور متنازعہ ٹویٹس کے حوالے سے ہے، جس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف کارروائی جاری ہے۔