کویت کی وزارت صحت نے سیلون اور بیوٹی پارلر کے لیے نئے قوانین کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد حفظانِ صحت اور آپریشنل معیارات کو مزید سخت بنانا ہے۔
یہ فیصلہ وزیرِ صحت ڈاکٹر احمد العوضی کی جانب سے جاری کردہ قرارداد نمبر 194/2025 کے تحت کیا گیا ہے، جسے سرکاری جریدہ کویت الیوم میں شائع کیا گیا ہے۔نئے قوانین کے تحت تمام بیوٹی اور ویلنس سینٹرز کو ایک جامع ہیلتھ ریکوائرمنٹس گائیڈ پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے، جس کا مقصد عوامی صحت کے تحفظ اور سیکٹر میں پیشہ ورانہ سالمیت کو یقینی بنانا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، مئی 2025 تک کویت میں تقریباً 1200 بیوٹی سیلونز اور 551 جمز فعال ہیں، جو اس صنعت کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں اور ان قوانین سے متاثر ہوں گے۔نئے قوانین کے تحت، تمام ہیلتھ اداروں، سیلونز اور پرسنل کیئر سٹورز کو سخت حفظانِ صحت کے اقدامات اپنانا ہوں گے، جن میں شامل ہیں:
عملے کی بھرپور تربیت
صفائی اور وینٹیلیشن کے منظور شدہ معیارات کی پابندی
آلات کی بار بار جراثیم کشی اور استعمال کے بعد صفائی
انفیکشن کنٹرول کے سخت طریقہ کار
حفظانِ صحت اور حفاظت کی تربیت
بہتر وینٹیلیشن سسٹمز
اجازت نامے اور باقاعدہ ہیلتھ آڈٹ
ڈاکٹر العوضی کا کہنا ہے کہ وزارت صحت متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر ان قوانین پر مکمل تعمیل کو یقینی بنائے گی، اور اداروں کو 1 مارچ 2026 تک اپنی کارروائیاں نئے ہدایت نامہ کے مطابق ڈھالنی ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کا اعتماد بحال کرنا اور پرسنل کیئر سیکٹر میں ذمہ دارانہ کاروباری روایات کو فروغ دینا ہے، تاکہ عوامی صحت کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔