آزاد کشمیر میں سیاسی بحران، راجہ فاروق حیدر کا ایوانِ صدر کے استعمال پر تنقید

آزاد کشمیر میں سیاسی بحران، راجہ فاروق حیدر کا ایوانِ صدر کے استعمال پر تنقید

راجہ فاروق حیدر نے حالیہ بیان میں آزاد کشمیر کے سیاسی بحران اور حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

 انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی کے لیے ایوانِ صدر کا استعمال مناسب طریقہ نہیں تھا اور اس حوالے سے 3 اجلاسوں کا انعقاد بھی صحیح عمل نہیں سمجھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کارروائیاں سیاسی غیر جانبداری کے اصولوں کے منافی ہیں اور ریاستی علامتوں کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال درست نہیں ہے۔انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو اس معاملے میں زیادہ احتیاط برتنی چاہیے تھی کیونکہ یہ ایک حساس اور اہم مسئلہ ہے۔ راجہ فاروق حیدر نے یہ بھی کہا کہ آزاد کشمیر میں وزیراعظم کی تبدیلی کا فیصلہ صرف نواز شریف ہی کریں گے، کیونکہ یہ ایک داخلی معاملہ ہے، اور پیپلز پارٹی اپنی قیادت، جیسے آصف زرداری یا بلاول بھٹو سے مشاورت کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ بلاول بھٹو کی زیر صدارت زرداری ہاؤس میں ایک اجلاس ہوا، جس میں کوئی قباحت یا غیر مناسب بات نہیں تھی، لیکن ایوانِ صدر میں اجلاس ہونے سے آزاد کشمیر کے سیاسی بحران پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

 ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایوانِ صدر کا سیاسی غیر جانبداری کے اصولوں کے منافی استعمال ہے، اور اس سے ریاستی اداروں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔آخر میں، راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے فیصلے خود کرے اور اس معاملے میں کسی بھی طرح کا سیاسی استعمال یا غیر ضروری گفتگو سے گریز کرے، خاص طور پر وفاقی وزرا کو بھی چاہیے کہ وہ آزاد کشمیر کے معاملے پر ذمہ داری سے بات کریں۔ یہ تمام باتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام اور غیر جانبداری کو اہم سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مسئلے کا حل جمہوری اور ذمہ دارانہ انداز میں نکلے۔