آزاد کشمیر کی سیاست میں موجودہ غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، کیونکہ وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف مجوزہ تحریک عدم اعتماد اب تک پیش نہیں کی جا سکی ہے۔
اتحادی حکومت کے صرف چار وزراء نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیا ہے، جبکہ تین وزراء نے پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے وزراء اب بھی عملی طور پر حکومت سے الگ نہیں ہوئے ہیں۔پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے عددی اکثریت موجود ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) نے پہلے ہی تحریک عدم اعتماد کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس کے باوجود، یہ تحریک تاحال اسمبلی میں پیش نہیں ہوئی ہے اور نئے قائدِ ایوان کے نام پر بھی کوئی اتفاق رائے نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق، وزیراعظم انوارالحق نے ممکنہ تحریک کا سامنا کرنے کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں، کیونکہ پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی نے چار ہفتے قبل ہی حکومت میں تبدیلی کا فیصلہ کیا تھا۔سیاسی جوڑ توڑ کے حوالے سے اہم سوال یہ ہے کہ نیا قائدِ ایوان کون ہوگا؟ ممکنہ امیدواروں میں چوہدری یاسین، لطیف اکبر، فیصل راٹھور اور سردار یعقوب کے نام زیر غور ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، آئندہ 72 گھنٹے انتہائی اہم ہیں کیونکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان مشاورت اور اتحادی فارمولے پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔ چند روز کے اندر اندر آزاد کشمیر کے سیاسی منظرنامے میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔