جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ملک کے سب سے بڑے اعزاز سے نوازا، جو کہ ایک اہم اور تاریخی لمحہ ہے۔
اس موقع پر، صدر لی جے میونگ نے امریکی صدر کو ایک خاص تحفہ بھی دیا، جس میں انہوں نے ایک سنہری تاج بطور نشانِ عزت پیش کیا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے مابین خاص تعلقات اور احترام کا مظہر ہے۔ملاقات کے دوران، ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کی پائیدار جمہوریت اور اس کے سیاسی استحکام کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں جمہوریت مضبوط اور مستحکم ہے، اور وہ جنوبی کوریا کے ساتھ اپنی سٹریٹیجک شراکت داری کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور جنوبی کوریا مل کر جہاز سازی سمیت دیگر صنعتوں کو فروغ دے رہے ہیں، اور دونوں ممالک کے مابین اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔اس کے علاوہ، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپیک سی ای او سمٹ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی کوریا کے ساتھ تجارتی معاہدے کو جلد حتمی شکل دی جائے گی، کیونکہ جنوبی کوریا امریکی ہتھیار اور دیگر مصنوعات خرید رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ، جب امریکہ ترقی کرتا ہے، تو اس کے اتحادی بھی ترقی کرتے ہیں، اور انڈوپیسفک خطہ بھی اقتصادی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے دوسرے دورِ صدارت کے اختتام تک، امریکا کو ممکنہ طور پر 21 سے 22 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری ملنے کی توقع ہے اور اگلی سہ ماہی میں 4 فیصد جی ڈی پی کی ترقی کا امکان ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا میں فیکٹریاں پھل پھول رہی ہیں، اور اقتصادی سلامتی کو قومی سلامتی سے جوڑتے ہوئے، تجارتی پالیسی کو اہم عنصر قرار دیا۔مزید برآں، انہوں نے چینی صدر سے ملاقات کی توقعات کا بھی ذکر کیا، اور امید ظاہر کی کہ چین کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ہمیشہ کے لیے امن قائم کیا جا سکتا ہے۔یہ ملاقات اور اعزازات دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات اور مشترکہ مفادات کی عکاسی کرتے ہیں، جو علاقائی اور عالمی سطح پر استحکام اور ترقی کا پیغام دیتے ہیں۔