جنوبی کوریا کی عدالت کا شمالی کوریا کو 3 کروڑ 25 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

جنوبی کوریا کی عدالت کا شمالی کوریا کو 3 کروڑ 25 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

سیول: جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کی ضلعی عدالت نے شمالی کوریا کو 2020 میں مشترکہ رابطہ دفتر دھماکے سے تباہ کرنے پر 3 کروڑ 25 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق عدالت نے شمالی کوریا کو مقدمے کے اخراجات بھی ادا کرنے کی ہدایت کی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث جنوبی کوریا کیلئے ہرجانے کی رقم وصول کرنا عملی طور پر مشکل ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد یا اس کا جواب دینے کے امکانات بھی کم قرار دیے جا رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2020 میں شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے تعمیر کردہ خالی مشترکہ رابطہ دفتر کو دھماکے سے تباہ کردیا تھا۔ پیانگ یانگ کا مؤقف تھا کہ سیول سرحد پار شمالی کوریا مخالف پروپیگنڈا پمفلٹس بھیجنے والے کارکنوں کو روکنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ جنوبی کوریا نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا تھا۔یہ عدالتی فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی برقرار ہے۔ 2019 میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد جوہری معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہوئے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کو اپنا بنیادی دشمن قرار دیتے ہوئے اپنی جوہری صلاحیت میں اضافہ جاری رکھا ہے جبکہ روس اور چین کے ساتھ تعلقات بھی مضبوط کیے ہیں۔گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں محدود کرنے کی بات کی اور کم جونگ اُن سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا، تاہم شمالی کوریا کی جانب سے اس حوالے سے محتاط ردعمل سامنے آیا۔شمالی کوریا نے تاحال جنوبی کوریا کی عدالت کے تازہ فیصلے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔