وزارت عظمیٰ کی دوڑ ، دھڑے بن گئے پی پی مشکلات کاشکار
آزاد کشمیر میں پی پی وزیر اعظم کا امیدوار فائنل نہ کر سکی، چوہدری یاسین اور لطیف اکبر کا نام سرفہرست مگر تا حال فیصلہ نا ہو سکا،فیصل ممتاز راٹھور اور سردار یعقوب بھی وزرات عظمی کی دوڑ میں ڈسکس ہونے لگے
حکومت کی تبدیلی کیلئے مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کا ساتھ دے گی لیکن آزاد کشمیر میں نئی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی، اِن ہاؤس تبدیلی کے معاملے پر مسلم لیگ ن کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
مظفر آباد(خصوصی رپورٹ) وزیراعظم آزاد کشمیر نے استعفیٰ نہیں دیا جب کہ پیپلزپارٹی کی دوپہر دو بجے تک کی ڈیڈلائن گزر گئی۔ نئے وزیراعظم کیلئے نام فائنل نہ ہونے پر تحریک عدم اعتماد فوری جمع کرانے کا فیصلہ مؤخر کردیا گیا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کواستعفیٰ کیلئے دی گئی مہلت ختم ہوگئی، چودھری انوار الحق نے مہلت کے دوران استعفیٰ نہ دیا، وزیراعظم آزاد کشمیر نے تحریک عدم اعتماد کاسامنا کرنے کا اعلان کردیا، کہا جن کے پاس نمبر پورے ہیں وہ تحریک عدم اعتماد لے آئیں۔ جب تک اختیار ہے کام کرتا رہوں گا۔ پی پی قیادت اب قائد ایوان نامزد کرکے چودھری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائے گی تاہم اسمبلی قوانین کے مطابق عدم اعتماد کے ساتھ نئے قائد ایوان کا نام دینا لازمی اس لیے عدم اعتماد فوری جمع کرانے کا فیصلہ مؤخر کردیا گیا۔پاکستان پیپلز پارٹی نمبر گیم پوری کرنے کے بعد مشکل کا شکار، پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں تاحال اپنا وزیر اعظم کا امیدوار فائنل نہ کر سکی۔ پیپلز آزاد کشمیر میں وزارت عظمی کی دوڑ کیلئے مختلف دھڑے بن گئے۔ وزرات عظمی کیلئے چوہدری یاسین اور لطیف اکبر کا نام سرفہرست مگر تا حال فیصلہ نا ہو سکا۔ پیپلز پارٹی کے کئی ممبران اسمبلی چوہدری یاسین سے ناخوش لطیف اکبر کو بھی سب کا اعتماد حاصل نہیں۔ فیصل ممتاز راٹھور اور سردار یعقوب بھی وزرات عظمی کی دوڑ میں ڈسکس ہونے لگے
(انٹر ۲۲)
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک)راولپنڈی: آزاد کشمیر میں ان ہاؤس تبدیلی کے معاملے پر مسلم لیگ ن کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ذرائع کا کہنا ہیکہ آزاد کشمیر میں ان ہاؤس تبدیلی کے معاملے پر ہوئے مسلم لیگ ن کے اجلاس میں احسن اقبال، رانا ثناء اللہ اور وزیرِ امورِ کشمیر انجینئر امیر مقام شریک ہوئے۔اس کے علاوہ مسلم لیگ ن آزادکشمیر کے صدر شاہ غلام قادر ، راجہ فاروق حیدر خان سمیت اراکین پارلیمانی پارٹی ، آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی سمیت مرکزی عہدیداران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ذرائع کے مطابق آزادکشمیر میں حکومت کی تبدیلی پر مسلم لیگ ن کی مشاورت مکمل ہوگئی اور مسلم لیگ ن نے نئے وزیراعظم کیلئے پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی تبدیلی کیلئے مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کا ساتھ دے گی لیکن آزاد کشمیر میں نئی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔ذرائع کے مطابق تحریکِ عدم اعتماد الگ معاملہ ہے، قائد ایوان کا انتخاب الگ معاملہ ہے، قائد ایوان کے انتخاب کے لیے ن لیگ نے پیپلزپارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔