وزیراعظم آزادکشمیر کا مستعفی ہونے سے انکار‘ن لیگ کا پی پی امیدوار کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ

تحریک عدم اعتماد کا معاملہ الگ ہے اور قائد ایوان کا انتخاب الگ معاملہ ہے، حکومت کی تبدیلی کے لئے پیپلز پارٹی کا ن لیگ ساتھ دے گی‘پیپلز پارٹی سے آزاد کشمیر میں جلد الیکشن سے متعلق مشاورت ہوگی
وزیراعظم آزاد کشمیر کیخلاف مشترکہ تحریک عدم اعتماد سیاسی پختگی کی علامت ہے، یہ بھی ایک بالغ سیاسی سوچ کی علامت ہے  اگر ایک جماعت حکومت میں شامل ہوگی تو دوسری اپوزیشن کا کردار ادا کریگی
ہم یہ بھی مطالبہ کریں گے  جو نئی حکومت قائم ہوگی وہ   جلد آزاد، منصفانہ انتخابات کرائے گی تاکہ ایک مستحکم حکومت قائم ہو سکے جو کشمیر کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے:احسن اقبال کی اجلاس کے بعد گفتگو
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں)ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی پر ن لیگ کی مشاورت مکمل ہوگئی، نئے وزیراعظم کیلیے پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے سے انکار کردیا گیا۔تحریک عدم اعتماد کا معاملہ الگ ہے اور قائد ایوان کا انتخاب الگ معاملہ ہے، حکومت کی تبدیلی کیلیے پیپلز پارٹی کا ن لیگ ساتھ دے گی۔‘ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب کیلیے ن لیگ نے پی پی امیدوار کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا  پیپلز پارٹی سے آزاد کشمیر میں جلد الیکشن سے متعلق مشاورت ہوگی، سیاسی رابطہ کمیٹی نے ا?زاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کو پیپلز پارٹی سے طے فارمولے پراعتماد میں لیا ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں آئندہ کا سیاسی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا اور طے پایا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں نئی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔سیاسی رابطہ کمیٹی آزاد کشمیر کی قیادت سے سیاسی حکمت عملی سے متعلق تجاویز مانگ لیں، کمیٹی وزیراعظم شہباز شریف کو وطن واپسی پر بریفنگ دے گی۔سیاسی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیراحسن اقبال نے کہامسلم لیگ  ن اور پاکستان پیپلز پارٹی  کی آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کی حمایت کا مشترکہ فیصلہ علاقے کے مسائل کے حل کیلئے   سیاسی پختگی کی علامت ہے۔مسلم لیگ  ن اور پیپلز پارٹی وفاقی حکومت میں بھی اتحادی ہیں، ان دونوں جماعتوں نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ وہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم حیدر کے خلاف مشترکہ طور پر عدم اعتماد کی تحریک لائیں گے۔  یہ بہت بڑی جمہوری بلوغت کی علامت ہے کہ دو بڑے اسٹیک ہولڈرز کشمیر کی سیاسی صورتِ حال اور وہاں کی بہتر حکمرانی کیلئے   عدم اعتماد کی تحریک لانے پر متفق ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی ایک بالغ سیاسی سوچ کی علامت ہے کہ اگر ایک جماعت حکومت میں شامل ہوگی تو دوسری اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم یہ بھی مطالبہ کریں گے کہ جو نئی حکومت قائم ہوگی وہ جلد از جلد آزاد، منصفانہ انتخابات کرائے تاکہ ایک مستحکم حکومت قائم ہو سکے جو کشمیر کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے۔دریں اثناء وزیراعظم آزاد کشمیر نے مستعفی ہونے سے انکار کردیا ہے