ماں بیٹیوں کا اغواء خاتون وزیراعلی کے ہوتے پولیس نے چادر، چار دیواری کا تقدس پامال کیا جسٹس محسن اختر

 پولیس اہلکاروں کے بظاہر اغواء ، زبردستی گھروں میں داخلے، ڈکیتی اور جھوٹے مقدمات بنانے میں ملوث ہونے کی تحقیقات کی جائے
 ڈائریکٹر کرائمز ایف آئی اے پولیس اہلکاروں کے اغوا ء میں ملوث ہونے کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دیں،سماعت نومبرتک ملتوی
اسلام آباد (آئی این پی )اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر نے  ریمارکس دئیے ہیں کہ وزیراعلی پنجاب خود خاتون ہیں، کمسن بچیوں اور ان کی والدہ کے اغوا کا معاملہ ضرور دیکھیں، خاتون وزیراعلی کے ہوتے ہوئے پولیس نے چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا، بچیوں کو تھانے بند کر دیا۔لاہور اور بہاولپور سے کم سن بچیوں اور ان کی والدہ کے اغوا کے بعد اسی فیملی کے خلاف مقدمات درج کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے پولیس اہلکاروں کے بظاہر اغوا، زبردستی گھروں میں داخلے، ڈکیتی اور جھوٹے مقدمات بنانے میں ملوث ہونے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایس ایس پی انوسٹی گیشن کو کم سن بچیوں کی والدہ کا بیان قلمبند کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا، پنجاب پولیس کا بچیوں کے اغوا میں ملوث ہونے کا معاملہ وزیراعلی اور آئی جی پنجاب کو بھیجنے کا عندیہ دیا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعلی پنجاب خود خاتون ہیں وہ متاثرہ خاتون اور بچیوں کے اغواہ کا معاملہ ضرور دیکھیں، ڈائریکٹر کرائمز ایف آئی اے پولیس اہلکاروں کے اغوا میں ملوث ہونے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دیں، رپورٹس جمع ہونے کے بعد ایف آئی اے اس کیس کی تفتیش کرے گی۔جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ اصل الزام پنجاب پولیس پر ہے کہ انہوں نے یہ سارا واقعہ کیا، اس کیس کی تحقیقات کیلئے خصوصی جے آئی ٹی ضروری ہے، خصوصی جے آئی ٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کی سربراہی میں ہوگی جو تحقیقات کرے گی۔