ماں اور بیٹیوں کا اغواء کیس عدالتیں کچھ نہیں کر سکتیں تو پھر ہم کس لئے یہاں بیٹھے ہیں جسٹس محسن کیانی

 عدالتیں مضبوط ہوتیں تو یہ سب نہ ہورہا ہوتا، ہم سب دیکھ رہے ہیں ‘کچھ کرنہیں سکتے‘ہم نے ڈکٹیٹرشپ کے دوران آنکھ کھولی، اب تو ججز بھی نہیں رہے
طلبا ء نے ملک کا دفاع کرنا ہے، ابھی یہ بات سمجھ نہیں آئے گی جب مشکل وقت آئے گا تب معلوم ہوگا:کیسوں کی سماعت کے دوران ریمارکس
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘آئی این پی)اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاہور اور بہاولپور سے کم سن بچیوں اور والدہ کے اغوا، سابق سی ای او پی آئی اے مشرف رسول کے شہری وقاص احمد، سہیل علیم کے ساتھ لین دین کے تنازع سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی۔وقاص احمد اور سہیل علیم کیخلاف درج مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن اسلام آباد کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔عدالت نے استفسار کیا کہ  ڈی آئی جی انوسٹی گیشن آکر بتائیں کیا لاہور پولیس کا بیان قلمبند کیا گیا، ڈی آئی جی بتائیں جنہوں نے خاتون کے گھر لاہور چھاپہ مارا، کیا ان کا بیان قلمبند کیا گیا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ کیا ان کے پاس سرچ  وارنٹ موجود تھے ، جنھوں نے خاتون اور بچیوں کو گھر سے اٹھایا،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ معاملہ اتنی جگہ التوا میں ہے اور کوئی انوسٹی گیشن نہیں ہورہی تو پھر انجوائے کریں، آپ کہنا چاہتے ہیں پہلے ہم 27 ویں آئینی ترمیم پر بحث کرینگے پھر دائرہ اختیار فائنل ہوگا۔ وکیل نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہے، ہم نے اسی عدالت کا بس ایک آرڈر چیلنج کیا ہے، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر اس صورتحال میں ہائی کورٹ جو آئینی عدالت ہی ہے اگر ہاتھ باندھے تو معذرت ہی ہے،  پھر تو معزرت کے ساتھ ہائی کورٹ کو تالے لگا دیں۔جسٹس محسن اختر کیانی  نے کہا کہ صورتحال تو ویسے اس وقت  ایسی ہی ہے، اگر عدالتیں مضبوط ہوتیں تو آج یہ سب کچھ نہ ہو رہا ہوتا،  لاہور سے خاتون اور اسکی تین سالہ بچیوں کو اغواہ کیا گیا اور یہاں پولیس مقابلہ کیا گیا، معاملہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی کو بھیجا تھا۔جسٹس محسن اختر کیانی  نے ریمارکس دیے کہ عورت اور بچیوں کے اغوا پر قانون کی بے بسی پر شرم آتی  ہے، ہم سب دیکھ رہے ہیں اور کچھ ہر نہیں سکتے، تین سال کی بچی کو چھ دن ماں سے دور رکھا گیا یہ انتہائی شرمناک حرکت تھی، اس لیے عدالت نے یہ کیس دیکھا ‘معاملہ لاہور آئی جی اور وزیر اعلی کو بھیجا۔ ساری عدالتیں اگر کچھ نہیں کر سکتیں تو پھر ہم کس لیے یہاں بیٹھے ہیں، اس کیس میں چوری کا مقدمہ خارج نہیں ہوسکتا ، ٹوٹل پانچ ایف آئی آرز ہیں۔دریں اثناو جامعات میں بی پی ایس اساتذہ کی پروموشن سے متعلق کیس کی سماعت  کے دوران  جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے ہم لوگ 80 کی دہائی کی نسل سے ہیں جنہوں نے ڈکٹیٹر شپ کے دوران آنکھ کھولی، یہاں پر ایسے اساتذہ بھی ہیں جن کو 17,18 سال مستقل نہیں کیا گیا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جب اساتذہ خود مایوس ہوں گے تو طلبا پر بھی اس کا اثر پڑے گا، اساتذہ اور طلبا نے بھی ملک کا دفاع کرنا ہے، ابھی یہ بات سمجھ نہیں آئے گی جب مشکل وقت آئے گا تب معلوم ہوگا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یونیورسٹی کے طلبا نے ہی آگے جاکر  کمانڈ کرنی ہے، ملک کے دفاع کا ایک بہترین نمونہ حال ہی میں دیکھا گیا ہے