38ہزار سکولز میں تعمیراتی کام لٹک گیا

 6ماہ گزرنے کے باوجود فنڈز کا اجرا نہ ہوسکا،25 ہزار نئے کلاس رومز بنانے کا منصوبہ شروع نہ ہوا
لاہور (خصوصی رپورٹ )پنجاب کے سرکاری سکولوں میں سہولیات کے فقدان کو دور کرنے کا اہم منصوبہ تاحال التوا کا شکار ہے، جس کے باعث صوبے بھر کے 38 ہزار سکولوں میں بنیادی تعلیمی ضروریات بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ محکمہ سکول ایجوکیشن کے لیے رواں سال 40 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے گئے تھے، تاہم چھ ماہ گزرنے کے باوجود فنڈز کا اجرا نہ ہوسکا۔ ذرائع کے مطابق صوبے کے سکولوں میں 25 ہزار نئے کلاس رومز بنانے کا منصوبہ بھی فنڈز نہ ملنے کے باعث شروع نہ ہوسکا۔ تعمیراتی کاموں کے آغاز میں تاخیر سے سکولوں میں جگہ کی شدید کمی پیدا ہوگئی۔ کئی سکولوں میں ڈبل شفٹ کے باوجود کلاس رومز ناکافی ہیں جس سے تدریسی عمل متاثر ہو رہا ہے۔شدید سردی کے آغاز نے صورتحال مزید خراب کر دی ہے۔ موسم کی سختی کے باوجود متعدد سکولوں میں بچے کھلے میدانوں یا بر آمدوں میں پڑھنے پر مجبور ہیں۔ اس صورتِ حال سے نہ صرف پڑھائی متاثر ہو رہی ہے بلکہ بچوں میں نزلہ، زکام، کھانسی اور دیگر موسمی بیماریوں کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ صوبے کے ہزاروں سکولوں میں فرنیچر کی شدید کمی بھی برقرار ہے۔ کئی کلاسوں میں بچے فرش پر یا ٹوٹی کرسیوں پر بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں۔والدین اور اساتذہ نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فنڈز فوری جاری کیے جائیں۔ان کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے داخلوں کے باوجود سہولیات میں بہتری نہ آنا تعلیمی نظام کے لیے خطرناک ہے۔